News-03-Jun-2017-1

اشرافیہ نے کردار کشی کے ساتھ ہماری لاشیں گرائیں، ظلم کے نظام کا خاتمہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو سزا دینے سے ہوگا : ڈاکٹر طاہرالقادری

Published : 3rd Jun, 2017

لاہور(2 جون 2017)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ اشرافیہ نے کردار کشی کے ساتھ ساتھ ہماری لاشیں بھی گرائیں،پھر بھی ہم مقابلہ کررہے ہیں،مافیا کا لفظ بہت چھوٹا ہے۔ یہ لوگ گاڈفادرز اور سیسیلین جیسے گروہوں کو جنم دینے والوں میں سے ہیں۔ادارے ظلم کے نظام کا اختتام چاہتے ہیں تو اس کی ابتداء جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ کی روشنی میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات سے کریں ،ظلم کا خاتمہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو سزا دینے سے ہو گا۔قاتل حکمران پاناما لیکس اور نیوز لیکس کے حقائق تو جھٹلاسکتے ہیں مگر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے نہیں۔ وہ گزشتہ روز سنٹرل کور کمیٹی کے ممبران سے گفتگو کررہے تھے۔ سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ اگر ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں اور مقتولوں کے ورثاء کو انصاف مل جاتا تو آج بے پناہ ریاستی اختیار کے حامل اداروں کو مافیاز کی چوری اور سینہ زوری کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔تحریک منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے کارکنان شہدائے ماڈل ٹاؤن کے انصاف کیلئے تنہا قانونی جنگ لڑرہے ہیں، مافیا کی حکومت اس حد تک سرکش ہو چکی ہے کہ وہ بیک وقت عدلیہ، سلامتی کے اداروں اور عوام کو للکار رہی ہے، ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہوتی تو کرپٹ اور بدکردار حکمران اداروں کی کھلے عام تذلیل کرتے نظر نہ آتے ۔جن اداروں نے 21 کروڑ عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا آج وہ اپنے آئینی حقوق اور تقدس کی حفاظت تک محدود کیے جارہے ہیں ۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ جس معاشرے میں مظلوم کی آہ و زاری سننے والا کوئی نہ ہو اس معاشرے کے ’’معززین ‘‘کو بھی رسوا ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔انہوں نے کہا کہ آج اشرافیہ کے مالی جرائم کی گواہیاں ڈھونڈی جارہی ہیں جبکہ گواہیاں پاکستان سے لے کر پاناما تک اور پاناما سے لے کر لندن ،مشرق وسطیٰ تک پھیلی ہوئی ہیں مگر کوئی گواہی کیلئے سامنے نہیں آرہا، یہ جرأت اور ہمت اللہ نے صرف عوامی تحریک کے غریب کارکنوں کو دی ہے کہ وہ وقت کے فرعونوں اور یزیدوں کی قتل و غارت گری کے خلاف نام لے لے کر عدالتوں میں گواہیاں دے رہے ہیں، ان ظالموں کے خلاف خاموشی اختیار کرنے والے یا قانون کو حرکت میں نہ لانے والے بھی اتنے ہی قصور وار ہیں جتنی اشرافیہ خود ہے ۔انہوں نے کہا کہ تفتیش اور تحقیق کے نام پر ہونے والا تماشا دنیا دیکھ رہی ہے کیا ادارے اتنے بے بس اور کمزور ہو چکے ہیں کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق بھی کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے؟ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ہم نے فرعون صفت اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل حکمرانوں کے خلاف جس جدوجہد کا آغازکیا تھا وہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے ،قاتل حکمران کسی اور کیس میں نہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں پھانسی کے پھندوں پر جھولیں گے۔