News-11-Aug-2017-2

متفقہ طور پر نا اہل قرار عوام کو سپریم کورٹ کے خلاف اکسا رہا ہے،والیم 10پبلک کیا جائے : ڈاکٹر طاہر القادری

 Published : Aug 11, 2017

لاہور(10اگست 2017) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ عوام نے نا اہل شخص کی ریلی میں شریک نہ ہو کر سپریم کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ نواز شریف کو 5 معزز ججز نے نا اہل قرار دیا مگر سپریم کورٹ کے خلاف عوام کو بغاوت پر اکسایا جا رہا ہے ،عوام کے اعلان لا تعلقی کی وجہ سے جہلم میں عصر کے وقت ریلی ختم کی گئی ۔ وزیر اعظم کی5سالہ مدت آئین پر عملدرآمد سے مشروط ہے،یہ عدت نہیں ہے کہ جس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی ۔نواز شریف کو پانچ معززججوں نے متفقہ طور پر نا اہل قرار دیا یہ شخص ماسٹر آف کرپشن ہے۔ متفقہ نا اہلی کے بعد شرمندگی مٹانے کیلئے ریلی نکالی جا رہی ہے ،نا اہل شخص بتائے یہ احتجاج کس کے خلاف ہے اور مطالبہ کیا ہے؟ پہلے سپریم کورٹ پر عملاً حملہ کیا گیا،اب لفظوں کی جنگ جاری ہے ،ہم کسی سے تصادم نہیں انصاف اور جسٹس باقر نجفی کمشن کی رپورٹ چاہتے ہیں ۔ نواز شریف کا یہ وہم ہے کہ کوئی فیصلے کے پیچھے ہے،فیصلے کے پیچھے بھی یہ خود ہیں اور آگے بھی۔آج11اگست کو اہم اعلان کرونگا ۔والیم 10 منظر عام پر آنا چاہیے اگر ریاست کے خلاف کوئی سر گرمیاں ہیں تو اس حصے کو چھوڑ کر کرپشن والے حصے کو پبلک کر دیا جائے،ملک میں 35سال تماشا کرنیوالا آج خود تماشہ بنا ہوا ہے،دنیا ہنس رہی ہے ۔100کلو میٹر کی رفتار سے گاڑیاں بھگانے والے اسی رفتار سے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ وہ گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62،63 پر پورا اترنا آئین کا تقاضا ہے۔جی 20 کے رکن ملک اٹلی میں 60سال میں 38 بار سربراہ مملکت تبدیل ہوئے مگر وہاں پر کوئی شور شرابا نہیں ہوا ۔نواز شریف وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے 10سال میرے قدموں میں بیٹھ کر سبق لیتے رہے تب تو وہ خود تباہ نہیں ہوئے اب میرے آنے سے ملک کیسے تباہ ہو جاتا ہے؟ہم پانامہ لیکس لانے والوں میں تھے نہ جے آئی ٹی میں تھے ۔نواز شریف کے ساتھ آج جو کچھ ہوا اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں وہ خود ہیں۔کرپشن،بددیانتی،جھوٹ ہو گا وہاں مواخذہ بھی ہو گا ۔۔اگر نا اہل وزیر اعظم اپنے گھر آ رہے ہیں تو اس کیلئے فوج اور عدالت عظمی کو برا بھلا کہنا ضروری ہے۔آئین وزرات عظمیٰ کو پانچ سال تک تحفظ دینے والے ایک آرٹیکل کا نام نہیں اس میںآرٹیکل 62،63 بھی ہے جو امانت اور صداقت کا تقاضا کرتا ہے اس میں آرٹیکل 14بھی ہے جو’’ شرف انسانی قابل حرمت ہو گا‘‘ کہتا ہے اس میں آرٹیکل 19بھی ہے جو آزادی تقریر کی گارنٹی دیتا ہے اس میں آرٹیکل 19-Aبھی ہے جو معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے ۔آرٹیکل 25-Aبھی ہے جو 5سال سے 16سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی کی بات کرتاہے مگر آپ نے ماڈل ٹاؤن میں انسانیت کی دھجیاں اڑائیں۔جسٹس باقر نجفی کمشن کی رپورٹ پبلک نہیں ہونے دی۔کروڑوں بچے بغیر تعلیم کے گلیوں میں رُل رہے ہیں۔آپ کس آئین اور آئینی مدت کی بات کرتے ہیں ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے سوال کیا کہ آپ کا مطالبہ کیا ہے اور آپ کی احتجاجی ریلیاں کس کے خلاف ہیں؟