News-04-Aril-2017-3

منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام 5 روزہ سپورٹس فیسٹول، افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی معروف آرٹسٹ افتخار ٹھاکر کا خطاب

Published : 4th April, 2017

لاہور(03 اپریل 2017).منہاج یونیورسٹی لاہور میں پانچ روزہ سالانہ کھیلوں کا میلا سج گیا ۔کھیل برائے امن کے عنوان سے شروع ہونیوالے 5روزہ سپورٹس فیسٹول میں کرکٹ،ہاکی،والی بال ،بیڈ منٹن ،بیس بال ،کراٹے،ڈسک تھرو،لان ٹینس،ٹیبل ٹینس سمیت دیگر کھیلوں کے مقابلوں کا آغاز کر دیا گیا ۔ 3اپریل سے شروع ہونیوالا یہ سپورٹس فیسٹول 7اپریل تک جاری رہے گا ،افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم غوری ،معروف آرٹسٹ افتخار ٹھاکر،ڈائیریکٹر سپورٹس اقبال مرتضیٰ ،رجسٹرار کرنل (ر) محمد احمد ،کرنل (ر) فضل مہدی ،رانا تنویر حسین ،ڈاکٹر مختار عظمی ،محمد سلیم،فہد سرور،چوہدری منیر حسین،طیب اسلم سمیت اہم شخصیات اور کھلاڑیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک ،نعت رسول مقبول ﷺ اور قومی ترانے کی دھن سے ہوا ۔فضا میں رنگ برنگے غبارے چھوڑے گئے ۔مختلف کھیلوں سے وابستہ لڑکوں اور لڑکیوں کے دستوں نے قومی پرچم اٹھا کر مارچ کرتے ہوئے معزز مہمانوں کو سلامی دی ۔ڈاکٹر اسلم غوری نے افتتاحی تقریب میں شریک کھلاڑیوں کے دستون سے حلف لیا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسلم غوری نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے ملک سے جہالت کا خاتمہ کرنا ہو گا ۔طلبہ کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ قلم اور کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط کرتے ہوئے اپنی جسمانی و ذہنی ورزش کیلئے صحت مندانہ کھیلوں میں حصہ لیں ۔وہی قوم ترقی کرتی ہے جو تعلیم اور تربیت کو اپنا زیور بناتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے فروغ سے بچوں کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں میں نکھار آئے گا ۔معاشرے میں اچھی اقدار کو فروغ دینے کیلئے کھیل ناگزیر ہے ۔منہاج یونیورسٹی تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلون کے مختلف ایونٹ منعقد کر کے مستقبل کے معماروں کو پھلنے پھولنے کیلئے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے ۔سوچوں میں نکھار ۔شعوری وسعت اور پختگی کیلئے تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل بھی ضروری ہیں ۔ملک کی پسماندگی اور تنزلی کا جائزہ لیں تو تعلیمی فقدان کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیاں نہ ہونے کی وجہ سے معاشرتی برائیاں مختلف رویوں کی صورت میں جنم لے رہی ہیں ۔اس بھیانک صورتحال پر قابو پانے کیلئے منہاج یونیورسٹی اپنا عملی کردار ادا کرتی رہے گی۔معروف کامیڈین افتخار ٹھاکر نے کہا کہ ہاکی،کرکٹ ،کشتی ،سکواش،باکسنگ اور دیگر کھیلوں کی بدولت سبز ہلالی پرچم کئی بار دیار غیر میں سر بلند ہوا مگر بد قسمتی سے آج زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح ملک میں کھیل بھی زوال کا شکار ہے ۔ذمہ دار مقتدر طبقہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرپرست اعلیٰ منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ہر میدان میں باصلاحیت لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔منہاج یونیورسٹی میں کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے والے نوجوان بیٹے اور بیٹیوں کو دیکھ کر یقین پختہ ہو گیا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں بہت زیادہ صلاحیتیں موجود ہیں اگر دیگر ادارے بھی ڈاکٹر طاہر القادری کی قائم کردہ یونیورسٹی کی تقلید کریں تو نیاٹیلنٹ ابھر کر سامنے آ سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار اور بہتر مستقبل کی گارنٹی ہو تو ملک کھیلوں میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتا ہے ۔انہوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کی صحت و سلامتی کیلئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں وہ پوری دنیا کو اسلام کا صحیح اور روشن چہرہ دکھا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری ملت اسلامیہ کے وکیل ہیں ،افتخار ٹھاکر کے چٹکلوں نے تقریب میں چار چاند لگا دئیے اور نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ سٹیج پر بیٹھے بزرگ بھی مسکراتے رہے ۔