News-17-Aril-2017-3

منہاجینز پارلیمنٹ کا اجلاس، سینکڑوں پی ایچ ڈی سکالرز اور ماہرین کی شرکت، ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی خصوصی گفتگو

Published : 17th April, 2017

لاہور(16 اپریل 2017)منہاج القرآن کے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ،مختلف شعبہ ہائے زندگی میں انجام دینے والے 500 سے زائد پروفیشنلز اور ماہرین پر مشتمل’’ منہاجینز پارلیمنٹ‘‘ کا 26 واں اجلاس منہاج القرآن سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ابوالحسن الازہری نے کی جبکہ منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر ڈاکٹر حسین محی الدین نے آسٹریلیا سے منہاجینز پارلیمنٹ سے ٹیلی فونک خطاب کیا ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ مختلف سرکاری و غیر سرکاری شعبہ جات میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دینے والے ماہرین خود کو اپنی دفتری مصروفیات اور ذمہ داریوں تک محدود نہ رکھیں وہ اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں پاکستان کو سیاسی،معاشی،سماجی بحرانوں سے نکالنے کیلئے تجاویز دیں،بالخصوص نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اور انہیں جدید سائنسی رجحانات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کریں ۔انہوں نے کہاکہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ظاہری علوم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ باطنی اور فکری علوم کے احیاء اور ترویج کیلئے بھی اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے ۔منہا جینز پارلیمنٹ میں 500 سے زائد خواتین و حضرات نے شرکت کی جن میں پی ایچ ڈیز اور مختلف نجی شعبوں کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ ساتھ پروفیسرز ،ڈاکٹرز،انجینئرز،زرعی سائنسدان اور پی ایچ ڈی مذہبی سکالرز بھی شریک تھے ۔ منہاجینز پارلیمنٹ میں فروغ امن نصاب مرتب کرنے پر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس وقت تعلیم کے شعبہ پر زیادہ سے زیادہ قومی انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے ۔تعلیمی شعبہ پر 5سال کے اندر جی ڈی پی کا 4 فی صد اور آئندہ 10 سال کے اندر جی ڈی پی کا 8 فی صد خرچ ہونا چاہیے ،منہاجینز پارلیمنٹ کے ارکان نے کہا کہ حکومتی انتظامی انفراسٹرکچر فرسودہ ہو چکا ہے اس انفراسٹرکچر کے اندر 21 ویں صدی کے تقاضے پورے کرنے کی اہلیت نہیں ۔کرپشن اور بیڈ گورننس کی سب سے بڑی وجہ فرسودہ نظام ہے۔اجلاس میں مختلف شعبہ جات میں اصلاحات تجویز کرنے کیلئے متعلقہ پیشہ ورانہ اہلیت رکھنے والے ارکان پر مشتمل کمیٹیاں بنائی گئیں اور باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔منہاجینز پارلیمنٹ نے قرآنی علوم کے فروغ کیلئے عرفان القرآن کورس اور ویمن لیگ کی طرف سے شروع کئے جانیوالے الھدایہ کورسز کو اسلامی تعلیم و تربیت کے بہترین کورس قرار دیتے ہوئے اسکا دائرہ ملک بھر تک پھیلانے کی تجویز کی گئی۔اجلاس میں منہاجینز پارلیمنٹ کے چاروں صوبوں میں کوآرڈینیٹرز کی بھی نامزدگی کی گئی ۔خیبر پختونخواہ کیلئے جاوید ہزاروی ،بلوچستان کیلئے صدام حسین ،سندھ سے افتخار احمد اور کراچی سے علامہ رانا نفیس ،کشمیر سے آفتاب احمد شامل ہیں۔منہاجینز پارلیمنٹ کے اختتامی سیشن سے ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈا پور نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ منہاج القرآن کے تعلیمی اداروں،کالجز ،یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات اپنی عملی زندگی میں اہم شعبہ جات میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے عملاً شریک ہیں۔جواد حامد نے منہاجینز پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ابو الحسن الازہری نے اختتامی کلمات میں کہا کہ تحریک منہاج القرآن بطور تنظیم ڈاکٹر طاہر القادری کا ایک ایسا عظیم کارنامہ ہے کہ جس کے ذریعے پوری دنیا میں پاکستان اور اسلام کا معتدل تشخص اجاگر ہو رہا ہے اور پاکستان کا ہر شہری فخر کے ساتھ تحریک منہاج القرآن کی خدمات کی’’ اونر شپ‘‘ لے سکتا ہے اور ہم قرآن و سنت کے علوم کی عالمگیر ترویج و اشاعت کے حوالے سے تحریک منہاج القرآن کو بطور مثال پیش کر سکتے ہیں ۔یہ پاکستان کی واحداصلاحی،علمی،تحقیقی تحریک ہے جس پر آج کے دن تک کوئی انگلی نہیں اٹھا سکا ۔ہم اسکے بانی و سر پرست ڈاکٹر محمد طاہر القادری کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔