News-26-May-2017-1

عوامی تحریک کا 28ووں یوم تاسیس ، ڈاکٹر طاہر القادری کی درازی عمر کیلئے دعائیں 8قراردادیں منظور، کیک بھی کاٹا گیا

Published : 26th May, 2017

لاہور(25 مئی 2017)پاکستان عوامی تحریک کے 28 ویں یوم تاسیس کے موقع پر مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر مرکزی رہنما چیئرمین سپریم کونسل ڈاکٹرحسن محی الدین نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ کی پری بجٹ بریفنگ میں پیش کیے گئے’’برق رفتار‘‘ترقی کے دعوؤں اور اعداد و شمار سے لگتا ہے کہ اب عالمی مالیاتی ادارے اپنا نظام چلانے کیلئے نواز حکومت سے قرضے لیں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ عالمی سطح پر غلط اعداد و شمار پیش کرنے کی شہرت رکھتے ہیں، وزیر خزانہ کے دعوؤں کی کوئی اہمیت نہیں، حقیقت یہ ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو تعلیم ،صحت ،انصاف اور تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، 70 ہزار قربانیوں کے باوجود حکومت انسداد دہشتگردی کا بیانیہ تیار نہیں کر سکی اور انسداد دہشتگردی کیلئے منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں میں پاکستان کے وزیراعظم کو بولنے کی اجازت بھی نہیں ملتی، جس ملک کے لیڈروں کے قول وفعل میں تضاد ،دولت مشکوک اور ہاتھوں میں کشکول ہو اس قوم کی کوئی عزت نہیں کرتا، وزیر خزانہ چار سال کی ’’بے مثال ترقی ‘‘کے بعد اگر تمام قرضے اتار دینے اور کشکول توڑنے کا اعلان کرتے تو یقیناًخوشی ہوتی،یہ کیسی ترقی اور گورننس ہے جس میں مریض خالص دوائی، غریب باعزت نوالے ،شہری خالص غذا سے محروم اور عدالتیں فوری انصاف کی فراہمی سے قاصر ہیں ۔یوم تاسیس کی تقریب میں خصوصی کیک کاٹا گیا اور ملکی ترقی، خوشحالی ،کرپٹ اور نااہل لیڈر شپ سے نجات اور قائد انقلاب ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی درازی عمر کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔یوم تاسیس کی تقریب میں سیکرٹری جنرل عوامی تحریک خرم نواز گنڈا پور ،نور اللہ صدیقی،ساجد بھٹی،بشارت جسپال، فیاض وڑائچ، راجہ زاہد، شاہد شاہ،چوہدری افضل گجر،راجہ ندیم ودیگر شریک تھے۔ تقریب میں شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کے انصاف کیلئے عزم اور استقامت پر انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ عوامی تحریک کے 28ویں یوم تاسیس میں 8قراردادیں منظورکی گئیں ۔1۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے جسٹس باقر نجفی رپورٹ کو شائع کیا جائے اور اس کو کیس کا باضابطہ حصہ بنایا جائے ۔2۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے نامزد ملزمان کو فی الفور سرکاری عہدوں سے الگ کیا جائے تاکہ شفاف انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔3۔ ملکی سلامتی کے امور، ڈان لیکس ،کلبھوشن کیس اور دیگر خارجہ امور حکومت کی ناکامیوں کا تسلسل ہیں۔4۔پانامہ لیکس میں حکمران خاندان تفتیشی اداروں سے تعاون کی بجائے اعتراضات کے ذریعے اس کو متنازعہ بنا رہے ہیں جو انکوائری سے راہ فرار ہے۔JITکو ہر صورت میں سپریم کورٹ کے مینڈیٹ کواستعمال کرتے ہوئے ہر ملزم کو کٹہرے میں لانا چاہئے۔5۔ انتخابی اصلاحات کمیٹی قوم کا قیمتی وقت ضائع کر کے بھی نتیجہ پیدا کرنے میں ناکام ہوئی ہے ،حکمران جماعت انتخابی اصلاحات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔6۔ 2013کے دھرنے میں ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے پیش کردہ انتخابی اصلاحات کے پیکیج پر عمل درآمد کے بغیر شفاف انتخابات نہیں ہوسکتے اور ماضی کی طرح بے نتیجہ رہیں گے۔7۔ پاکستان کو دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں اعتدال کی راہ اپناتے ہوئے کسی گروپ کے ساتھ فریق بننے کی بجائے سب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو خاص اہمیت دینی چاہئے ۔8۔حکومت گذشتہ بجٹ میں رکھے گئے اہداف بالخصوص غیر ملکی قرضے ،لوڈ شیڈنگ،مہنگائی اور بیروزگاری ختم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ اجلاس میں عوامی تحریک کو گراس روٹ کی سطح پر منظم کرنے اور انقلابی ایجنڈے کو ایک نئے عزم کے ساتھ اجاگر کرنے کا عہد کیا گیا۔