News-02-Jun-2017-1

ڈاکٹر حسن محی الدین قادری سے مخدوم سید احمد محمود کی ملاقات، سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال

Published : 2nd Jun, 2017

لاہور(01 جون2017)چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن ڈاکٹر حسن محی الدین سے سابق گورنر پنجاب اور پیپلز پارٹی کے سنیئر رہنما مخدوم سید احمد محمود نے پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں ملاقات کی۔مخدوم سید احمد محمود نے ڈاکٹر حسن محی الدین سے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر اظہار تعزیت کیا دونوں رہنماؤں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن ،پانامہ لیکس ،نیوز لیکس سمیت ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔سابق گورنر نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن سیاست سے بالاتر ہے ،قتل عام کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے ،3 سال گزر جانے کے باوجود بھی ذمہ داروں کو سزا نہ ملنا باعث تشویش ہے ۔سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ اور منہاج القرآن کے سیکرٹریٹ پر ہونیوالی ریاستی دہشتگردی ،قتل و غارت گری ،حکومتی بربریت اور تشدد کی بد ترین مثال ہے ۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نہتی خواتین کو بھی براہ راست گولیوں کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کیا گیا ۔17 جون 2014 ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔پر امن اور نہتے شہریوں پر ظلم و بربریت ایک ایسا عمل ہے جو اسلامی ،آئینی ،قانونی،جمہوری اور ابین الاقوامی اقدار کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ذمہ داران کو سزا ملنی چاہیے۔ملاقات میں عبد القادر شاہین ،منہاج القرآن کے ڈائیریکٹر فارن افیئرز جی ایم ملک ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات نور اللہ صدیقی،قاضی فیض الاسلام ،فیاض وڑائچ،جواد حامد،ساجد بھٹی،راجہ زاہد،ناصر اقبال ایڈووکیٹ ،اورنگزیب خان و دیگر بھی موجود تھے ۔سابق گورنر نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ڈاکٹر طاہر القادری کی کوششیں قابل تحسین ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی کا ہر کارکن دہشتگردی کے ایشو پر ابہام سے پاک موقف رکھتا ہے ۔دہشتگردی کے خلاف ڈاکٹر طاہر القادری کا 6 سو صفحات پر مشتمل فتویٰ قومی خدمت ہے ۔چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن ڈاکٹر حسن محی الدین نے کہا کہ حکمران آئین کے آرٹیکل 62،63 کی گرفت میں آتے ہیں ،حکمرانوں نے عوام کو خودکشیوں اور ملکی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے ۔غریب عوام کا استحصال ہو رہا ہے ،حکومت کو مزید وقت دیا گیا تو حالات مزید بگڑ جائینگے۔شریف برادران اپنی روایت کے مطابق ریاستی اداروں اور قانون کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کر رہے ہیں ۔پاکستان عوامی تحریک نے دہشتگردی،استحصال،کرپشن اور فرسودہ سیاسی نظام کے خلاف جدوجد شروع کر رکھی ہے جو منزل مقصود کے حصول تک جاری رہے گی ۔سابق گورنر نے پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹریٹ میں قائم مختلف شعبہ جات کا دورہ بھی کیا اور کہا کہ میں جلد دوبارہ سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کیلئے آؤنگا ۔