News-17-Aug-2017-2

۔ 16 اگست ، شہدا ء و زخمیوں کے خاندانوں کے احتجاجی دھرنے سے ڈاکٹر طاہر القادری کا خصوصی خطاب

Published : Aug 17, 2017

لاہور () گذشتہ روز سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کے شہداء اور زخمیوں کے خاندانوں کی جانب سے دیئے گئے دھرنے میں اظہار یکجہتی کے لیے شرکت کی۔ دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا

میرے غیور بیٹے ، بیٹیو، مائوں بہنوں، بزرگو۔ آپ نے وقت کی فرعونیت کو رد کر دیا ہے اور وقت کے فرعون کی دولت کو بھی ٹھوکر ما ر دی اور ثابت قدم ہو کر آپ کھڑے ہیں اور دنیا کی طاقت آپ کو ڈرا نہیں سکی اور دنیا کی کوئی دولت آپ کو خرید نہیں سکی۔ اور دوسرے پارٹیوں سے آئے ہوئے کارکنان میں سب کا خیر مقدم کرتا ہوں۔
مظلوموں کے حق میں آواز بلند کر نیوالی میرے بہنیں بیٹھیں ہیں، یہ تمام سب لوگ یہ کہنے آئے ہیں اکہ آپ لوگ تنہا نہیں۔ اور وہ وقت دور نہیں جب آپ کو انصاف ملے گا دنیا کی کوئی طاقت آپ کو انصاف دلانے سے روک نہیں سکتی ۔ میں یہاں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک آپ کا دھرنا رہے گا اور دھرنے کے آخری لمحے تک میں یہاں آپ کے ساتھ رہوں گا۔
میں رات کو 9بجے کے قریب دوبارہ خطاب کے لیے حاضر ہوں گا۔ ابھی ادھر ہی بیٹھا ہوں۔
یہ آج کا دھرنا جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ کے حصول کے لیے ہے۔ یہ شہیدوں کی مائوں ، بہنوں کا دھرنا ہے ۔ آج احتجاج کی تحریک ختم نہیں ہوگا۔ میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ انصاف کے طلبگار کمزور نہیں ہے ۔ یہ چاہیں تو شریف برادران کے گریبان پکڑ کر بھی انصاف لے لیں مگر ہمیں اپنے امن نے مجبور کر رکھا ہے۔
یاد رکھو ابھی چور پکڑا گیا ہے ۔ لیکن ابھی قاتل باقی ۔ پہلے میں چور کی بات کرو۔ پھر اُس قاتل کی بات کروں گا جس نے 17جون کو قتل عام کروایا۔ جس نے 17جون کو اپنے حکم کے ذریعے بے گناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی اور اس کا نام ہے شہباز شریف۔ میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں نواز شریف کے پیچھے بھی اصل قوت شہباز شریف کا اقتدار ہے جب تک یہ دونوں اپنے انجام کو نہیں پہنچتے اس نظام کا خاتمہ نہیں ہوگا۔
پانامہ کیس میں پکڑے جانے والے چور جو سپریم کورٹ سے نااہل ڈیکلئر ہوئے وہ کہتے ہیں کہ آئینی ترامیم کر کے رہیں گے ۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ پاکستان سے امانت صداقت ختم کر کے رہیں گے ۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ سیاسی تاریخ میں ووٹ کا تقدس پامال کرنیوالے خود وہی ہے۔ انہیں یاد ہونا چاہئے 80کی دھائی میں ا س نے سیٹوں کے لیے بولیاں لگائیں۔ نواز شریف صاحب آپ بتائیں ووٹ کا تقد س پامال کس نے کیا۔ آپ وہ وقت بھول گئے جب آپ لوگوں کو خریدنے کے لیئے 3لاکھ ، 6، لاکھ 12لاکھ اور دیگر ریٹ آپ لگاتے تھے۔
آپ مسلمان ایم پی ایز کی بولی زیادہ لگاتے اور جو نان مسلم تھے اُن کی آدھی بولی لگاتے۔ آپ نے وہاں پر بھی Discriminationکیا۔ اگر میں غلط کہہ رہا ہوں اور آپ میں جرأت ہے جو نہ ہے اور نہ سارے خاندان میں ہوگی ۔ میر ی بات کا جواب دو۔ 89ء میں بے نظیر بھٹو کو اس وقت کے صدرسے مل کرڈیڑھ سال کے اندر برطرف کروایا،اور پھر خودوزیر اعظم بنے۔  ٭۔90ء کی دھائی میں دوسری بار بے نظیر وزیر اعظم بنی پھر دوسرے صدر سے مل کر بر طرف کروا دیا اور خود وزیر اعظم بنے۔ اس ملک میں جمہوریت کو پیسے کے ساتھ غلیظ آپ نے کیا۔ اس ملک میں چھانگا مانگا سیاست کو متعارف آپ نے کروایا۔ آپ نے چھانگا مانگا میں اپنے ضمیر کا سودا کر رہے تھے اور کیا وہاں اُن کو نماز تہجد پڑھا رہے تھے۔ جس پورے سسٹم کو آپ نے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا آج آپ جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔
کون جنرل ضیاء الحق کا پہلی نامزد وزیر اعلی تھا۔ آج آپ کہتے ہیں کہ 70سال سے تماشا لگا ہوا ہے ۔ اس تماشے کو پالا آپ نے ، اس تماشے کو ڈویلپ آپ نے کیا۔ آپ ایمان سے بتائیں کتنے قتل کروائے ہیں۔ کتنی عزتیں لوٹیں ہیں۔ کتنے ٹھیکے کئے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ میں انقلاب لانا چاہتا ہوں۔ یہ انقلا ب آپ کو 28جولائی کے بعد یاد آیا ۔
آپ کا اشرافیہ سب سے طویل ترین مدت میں ہے ۔
شہباز شریف کبھی انقلابی شعر پڑھتے ہیں۔انقلابی شعر پڑھنے کے ساتھ بندہ انقلاب لانے والا تھوڑا بن جاتاہے۔
عربی اور اردو میں شریف کی جمع اشراف ہے ، تم کہتے ہو کہ اس ملک کو اشرافیہ لوٹ کر کھا گئے ۔ واقعی آپ اشرافیہ ہو اور ملک کو لوٹ کر کھا گئے۔ آپ نے انقلاب کا نعرہ لگایا۔
ماڈل ٹائون کو گولیوں کے ساتھ انسانی جانوں کو بھوننے والے کس منہ کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ انقلاب غریب کے درد سے آتا ہے۔
آپ کا انقلاب : شہباز، نواز بچائو انقلاب ہے ۔
میں آپ کے درد کا سبب سمجھتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ جب آپ نااہل ہوئے ہیں۔اب آپ کو آگے ماڈل ٹائون کیس نظر آرہا ہے ۔ آپ کو اپنا پھانسی کا پھندا نظر آرہا ہے۔
آپ نے 30سال حکومت کر کے صرف اپنے خاندان کو خوشحالی دی ہے ۔میں آپ کے فرنٹ مین ہندووں کو بھی جانتا ہوں ، یہودیوں کو بھی جانتا ہوں۔ اور یہ سارے کام آپ کے یہ فرنٹ مین کرتے رہے ،
میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ شریف برادران اتنے حواس باختہ ہو چکے ہیں کوئی ان میںسے کہتا ہے ۔
میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں نواز شریف ابھی تو انصاف کی پہلی کھڑکی کھلی ہے ۔ ابھی دروازہ کھلے گا۔ آپ نے پھانسی پر لٹکنا ہے ۔ ابھی آپ نااہل ہوئے ہیں تو اتنی تکلیف تھی۔ کیا وہ لوگ جو قتل ہوئے وہ انسان کے بچے بچیاں نہیں تھے، کیا وہ کسی حیوان کے بچے تھے۔
جو لوگ شہید ہوئے یا گولیوں سے زخمی کر دئے گئے وہ لوگ چاہتے کیا تھے ۔ وہ آرٹیکل 62,63کا نفاذ چاہتے تھے۔
وہ کرپٹ انتخابی پریکٹسزکا خاتمہ چاہتے تھے۔ آئین کی ان شقوں کے عملی نفاذ کے لیے جنوری 2013میں لانگ مارچ ہوا۔
انتخابی اصلاحات کے لیے پر امن دھرنے دیئے۔
میں اسلام آباد سے نکلا تھا آرٹیکل 62, 63 کا سبق پڑھایا۔ پھر میں سپریم کورٹ گیا اسی آرٹیکل کے لیے جب آپ کے الیکشن ہو رہے تھے ۔ میں نے کہا یہ آرٹیکل ہر صورت آئین میں ہونے چاہییں۔ یہ بدمعاش، لوٹیرے، دہشتگردی غریب کو لوٹ لوٹ کر کھاتے رہیں گے۔ جو ایک غریب اور سنجیدہ آدمی کو پارلیمنٹ تک دسترس نہیں ہوگی۔
جو لوگ 17جون کو شہید ہوئے وہ آج یہاں جمع ہیں ۔اُن شہیداء کے ورثا پوچھتے ہیں کہ 17جون کو شہیدہونے والوں کا قصور کیا تھا؟ کیا انہوں نے رائے ونڈ پر حملہ کیا تھا،ان کا قصور کیا تھا۔ میں عدلیہ سے پوچھتا ہوں۔ 17جون کو جو لاشیں گریں ان کا قصور کیا تھا۔ وہ صرف یہی کہتے تھے کہ ہمارے بچوں کو تعلیم کا حق دیا جائے۔ وہ صرف یہی کہتے تھے کہ برابری کا حق دیا جایئے۔ آپ نے دھمکی دی کہ کہو ڈاکٹر صاحب کو کہ وہ پاکستان نہ آئیں ورنہ ہم برا حشر کر دیں گے ۔ اور وہ کر دیا۔ اورآدھی رات کو میرے گھر کے۔
بیرئر ہائیکورٹ کے حکم پر لگے تھے۔
بیرئر پر کوئی شہید ہوا نہ زخمی۔اس کا مطلب ہے بیرئر پر کوئی مزاحمت نہیں تھی۔
گھر کے دروازے پر کونسا بیرئر تھا؟ جہاں تنزیلہ امجد اور شازیہ مرتضیٰ کی شہادت ہوئی۔
گوشہ درود کے اندر کونسا بیرئر تھا؟ جہاں گولیاں برسائی گئیں۔
منہاج القرآن کے مرکزی دروازے پر کونسا بیرئر تھا؟ جہاں لاشیں گرائی گئیں۔
منہاج القرآن کے سامنے والے گرائونڈ میں کونسے بیرئر تھے؟ جہاں گولیاں برسائی گئیں۔
100لوگوں کو گولیاں ماری گئیں، جن میں 14شہید ہوئے۔
گوشہ درود کے اندر کون سے بیرئرتھا اُس کے اندر جا کر گولیاں چلائی گئیں۔
آپ نے کہا کہ میں نے جسٹس باقی نجفی پر مشتمل ایک کمیشن بنا دیا ہے ۔ شہباز شریف نے کہا۔ آپ نے کہا
رپورٹ آپ کے پاس ہے ۔ اگر آپ ذمہ دار نہیں ہیں تو آپ کو ڈر کس بات کا ہے ۔ رپورٹ پبلک کر دو۔ مقدمہ چلتے رہے گا ۔ اِسی لئے آج یہ مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں ۔۔
ابھی ایک بڑی احتجاجی ریلی فیصل آباد، ملتان ، پنڈی میں کریہ کریہ احتجاج ہوگا۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ جسٹس باقر نجفی نے اپنی رپورٹ میں جس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے وہ رپورٹ بتائی تو جائے ۔ ماڈل ٹائون کے قتل عام کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا ۔ آئین کی رو سے ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اُس میں لکھا کیا ہے ۔ آپ اگر قاتل نہیں ہیں تو
اڑھائی سال سے ہائیکورٹ پر ہماری اپیل نہیں ہورہی۔ کیا ان یتیم بچے ، بچیاں کا کوئی حق نہیں ہے پوچھنے کا۔ آپ کو شرم سے ڈوب نہیں مرتے ، آپ آئین کی بات کرتے ہو۔ آپ ریلی نکالتے ہو۔ ااگر آپ میں شرم ہوتی تو رائے ونڈ کے تالاب میں ڈوب کر مر جاتے ل۔ اس وقت صرف یہ مطالبہ ہے کہ رپورٹ پبلک کیجائے۔ ہمارا مقدمہ چل رہا ہے ۔ یہ شہیدوں کے بچے بچیاں چاہتے ہیں کہ مقدمہ میں وہ رپورٹ ساتھ لگائی جائے ۔ آپ کو
ورنہ ایک غیر جانبدار بنچ مقرر کریں۔ ایسا بنچ جن کا تعلق نہ ہمارے ساتھ ہو، نہ مدعی علیہ کے ساتھ ہو۔ اگر اُن کا کسی کے ساتھ تعلق ہو تو وہ از روئے آئین، از روئے قرآن یہ درست نہیں۔اگر کسی کی رشتہ داری ہے اور کسی کا تعلق ہے تو سمجھ لیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ بنچ ہماری مرضی کا ہو، ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ بنچ اُن کی مرضی کا ہو۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ
نظام بدلنے کی بات کرنے والے ، لوگوں کا استحصال کرنے والے ۔
نظام بدلنے کی پر امن تحریک چلانے آرہے تھے،
تم نے استحصال کے خاتمے کی بات کرنے والوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔ گولیاں ماریں۔
آئین کی بالا دستی چاہنے والوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گولیاں ماریں۔
حقیقی جمہوریت چاہنے والوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گولیاں ماریں۔
انتخابی اصلاحات چاہنے والوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گولیاں ماریں۔
نواز شریف نے آج کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کل شہباز شریف کہے گا مجھے کس لئے نکالا۔
ان کو ابھی جواب دے رہا ہوں ، اور شہباز شریف کو پھر جواب دیتا ہو ں ایڈوانس میں ۔
اگر پوچھتے ہو ہم سے ہمیں کس لیے نکالا۔ کسی اور نے نہیں نکالا تجھے اللہ نے نکالا
تونے ملک کو اتنا لوٹا تجھے اس لیے نکالا
اقامہ بھی چھپایا مالِ حرام بھی کمایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورے 3سال تک نجفی رپور ٹ کو دبایا۔ تجھے اس لیے نکالا
تونے عزتوں کو لوٹا ، تونے ذلتوں کو پالاتجھے اس لیے نکالا
تونے منی لانڈرنگ بھی
مانگا حساب جب تو قطری خط نکالا تجھے اس لیے نکالا
ظلمت کی داستانیں تو نے رقم کر دکھائیَ
قوم کے منہ پر تونے گولیاں چلائیں۔
بچوں کے جسموں پر تونے گولیاں چلائیں؛
اقتدار کے نشے میں 14لاشیں گرائیں؎
تاریخ میں رقم ہے 17جون کا حوالہ تجھے اس لیے نکالا
شہباز شریف یہ کہیں گے۔ شہباز شریف اپنی پھانسی کا انتظا رکرو۔ بڑے بڑے فرعون ڈوب گئے ۔ یہ آپ کا اقتدار آپ کو بچا نہیں سکے ظالمو: بہتر ہے کہ خود کو ہتھکڑیوں لگا کر قانون کے حوالے کر دو ورنہ آپ کو گھسیٹا جائے گا ۔

 

ویڈیو اس لنک پر دیکھیں 

Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri’s Arrival and Address to Model Town Victims families’ protest – Aug 16, 2017