News - 08 Oct - 2017 - 2

ختم نبوت کے حلف میں تبدیلی کے خلاف ڈاکٹر طاہر القادری نے قرارداد پیش کر دی ، قرارداد کی چاروں صوبوں سے آئے 3ہزار علماء ،مشائخ نے منظوری دی

Published : Oct 08, 2017

لاہور(  )3 ہزار سے زائد علماء ،مشائخ ،اسلامک سکالرز پر مشتمل جامع المنہاج لاہور میں منعقدہ علوم الحدیث کانفرنس میں ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ختم نبوت کے حلف میں تبدیلی مسلمہ عقیدہ ختم نبوت پر منظم حملہ تھا ،اس حملہ کے پس پردہ تمام کرداروں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور انہیں کڑی سزا دی جائے۔ محض ترمیم واپس لینا کافی نہیں ہے۔ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنا ریاستی اداروں کی آئینی، ملی اور دینی ذمہ داری ہے۔ اگر ریاستی اداروں نے یہ ذمہ داری پوری نہ کی تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔

یہ قرارداد پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کانفرنس میں خود پیش کی جس کی چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان سے آئے ہوئے علماء، مشائخ اور اسلامک سکالرز نے منظوری دی۔

قرارداد کی منظوری کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس ترمیمی دہشت گردی کا تعلق بحالی کے کسی معاہدے سے ہے ،کسی نے کسی کو یقین دلایا کہ آپ مجھے بحال کروادیں میں ختم نبوت کی دیرینہ رکاوٹ کو دور کروادیتا ہوں اور یہ بھی سازش میں شامل تھا کہ اگر یہ ترمیم پکڑی گئی اور شدید ردعمل آیا تو خاموشی سے واپس لے لی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ میں ریاستی اداروں کو جھنجھوڑ رہا ہوں کہ وہ اس پر خاموش نہ رہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین سے اسلام کی امانت اور صداقت کے حوالے سے مسلمہ اقدار اور تعلیمات کو نکال کر تعلیمات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نفی کی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نبوت کے منصب پر فائز ہونے سے قبل صادق اور امین کے منصب پر فائز تھے ،انہی تعلیمات کو آئین سے نکالنا ناقابل قبول ہے۔

علماء مشائخ کی اس کانفرنس میں جھل مگسی خودکش دھماکہ کی مذمت اور شہداء کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

علوم الحدیث کی اس کانفرنس میں ملک بھر سے آئی ہوئی خواتین سکالرز کی ایک بڑی تعداد بھی شریک ہے۔ یہ کانفرنس 9,8,7اکتوبر تین روز تک جامع المنہاج لاہور میں جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجرم اپنے خلاف تحقیقات کیسے کر سکتے ہیں؟ قوم اب مزید ان کے دھوکے میں نہیں آئے گی۔