03

ماڈل ٹاؤن میں گولیاں برسانے کا حکم کہاں سے آیا،حکومت بتانے میں ناکام ۔ڈاکٹر طاہرالقادری

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کہتے ہیں کہ انصاف مانگنا، دھاندلی کے خلاف آواز اٹھانا ،ریاست کے تمام شہریوں سے ایک جیسے سلوک کا مطالبہ کرنااور آزادی اظہار کے حق کو استعمال کرنا اگرجرم اورجمہوریت پر حملہ ہے تو پھرآئین کی کتاب سے بنیادی انسانی حقوق کا چیپٹر نکال دیا جائے ۔وہ گزشتہ روز پاکستان عوامی تحریک کے وکلاء رہنماؤں سے گفتگو کر رہے تھے ،وکلاء نے انسداد دہشتگردی عدالت، لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے دائرمختلف درخواستوں کے بارے میں بریفنگ دی ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ سیکیورٹی آف پرسن ، انتخابی دھاندلیوں اور شہریوں سے مساوی برتاؤ کے آرٹیکلز 1973 کے آئین کا حصہ ہیں۔ان پر عملدرآمد کی ہمیشہ بات کی اور کرتے رہیں گے،ماڈل ٹاؤن کا انصاف ہمیشہ آئین و قانون کے مطابق مانگا جو نہیں ملا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ہر اس شخص کا میڈیا،سول سوسائٹی ،وکلاء برادری ضرور محاسبہ کرے جسکا طرز عمل ماورائے آئین و قانون ہے،میں نے ہمیشہ امن،محبت اورآئین و قانون کی بالادستی کی بات کی۔ہمارے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں مگر پھر بھی ردعمل میں قانون ہاتھ میں نہیں لیا اور پونے 4سال سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی حکومتی دہشتگردی پر عدالتوں سے انصاف مانگا ۔سانحہ ماڈل ٹاؤ ن سے متعلق حکومتی الماریوں میں پڑے بعض ثبوت جب عدالت کی میز پر آئینگے تو انصاف ملنے کا عمل تیز ہو گا ۔جسٹس باقر نجفی کمشن رپورٹ سے ملحقہ 13سو کاغذات پر مشتمل دستاویزات شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کو نہیں دی جا رہیں،اسی تناظر میں فیئر تفتیش اور فیئر ٹرائل کی بات کرتے ہیں اور یہ حق ہمیں پاکستان کا آئین دیتا ہے ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاکہ آج کے دن تک حکمرانوں نے اس بات کا جواب نہیں دیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں گولیاں برسانے اور لاشیں گرانے کا حکم کس نے دیا؟اور ایک ایسا سانحہ جس کی باز گشت پوری دنیا میں سنی گئی پونے4سال کے بعد بھی اس کیس میں کسی قاتل کو سزا نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ کیا آئین کا آرٹیکل 9 ریاست کے ہر شہری کو زندگی اور آزادی کی گارنٹی نہیں دیتا؟ کیا آرٹیکل 10-A فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیتا؟ کیا آرٹیکل 14 شرف انسانی کو قابل حرمت قرار نہیں دیتا؟ کیا آرٹیکل 25تمام شہریوں کو قانون کی نظر میں برابر ہونے کی گارنٹی نہیں دیتا؟ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد آئین کے 40 آرٹیکلز سے کبھی باہر نہیں گئی اور اگر آئین کے آرٹیکلز پر عمل نہیں کرنا تو پھر ان آرٹیکلز کوآئین سے نکال دیا جائے جیسے ایک نا اہل شخص کو جماعت کا سربراہ بنانے کیلئے رکاوٹ بننے والی قانونی شقوں کو نکالا گیا ۔