2

عوامی تحریک کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس

پاکستان عوامی تحریک کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس مرکزی سیکرٹریٹ میں سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ سابق پولیس انسپکٹر پنجاب عابد باکسر کی گرفتاری ایک بڑی خبر ہے، عابد باکسر پنجاب پولیس اور ن لیگ کے انتظامی کلچر کا اصل چہرہ ہے، اس سے درست تفتیش ہو گئی تو قاتل اعلیٰ اور اس قماش کے جملہ حواری مکمل طور پر بے نقاب ہوں گے ،عابد باکسر نے پولیس مقابلوں میں پیش پیش جس افسر کا بار بار ذکر کیا وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بھی فرنٹ لائن پر تھا اور سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے بھی اسے طلب کررکھا ہے۔عابد باکسر سے تفتیش کیلئے آئی ایس آئی، ایم آئی کے نمائندوں پر مشتمل جوڈیشل انکوائری کمیشن بننا چاہیے۔سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں جی ایم ملک، سید الطاف حسین شاہ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی، ساجد محمود بھٹی، جواد حامد،نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، علامہ غلام مرتضیٰ علوی،ڈائریکٹر انٹر فیتھ ریلیشنز سہیل رضا،شہزاد رسول، افنان بابر، یوتھ ونگ کے مرکزی صدر مظہر محمود علوی، ایم ایس ایم کے مرکزی صدر چودھری عرفان یوسف و دیگر ممبران سی ڈبلیو سی شریک ہوئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے مشال قتل کیس کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ سے انتہا پسندی، جنونیت اور سازشی رویوں کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی،انسداد دہشتگردی عدالت کے پی کے کی طرف سے کم سے کم عرصہ میں مشال قتل کیس کا فیصلہ خوش آئند ہے، ملکی تاریخ میں پہلی بار قاتل ہجوم کو سزائیں ملیں، مشال کے والد کے تحفظات کا قانون کے مطابق مکمل ازالہ ہونا چاہیے، جلد فیصلہ کے پیچھے خیبرپختونخوا کی پولیس ،خیبرپختونخوا کے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ اور کے پی کے حکومت کا ذمہ دارانہ انسان پرور اور انصاف دوست کردار ہے جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس خیبرپختونخوا پولیس سے اور پنجاب کا پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے پی کے کے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ سے ایمانداری، انسان دوستی اور احساس ذمہ داری کی تربیت لے ۔خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں اگر پنجاب حکومت، پنجاب پولیس اور پنجاب کا پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ مجرموں کو بچانے کی بجائے انہیں سزا دلوانے کیلئے اپنا قانونی کردار ادا کرتا تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کا فیصلہ اب تک ہو چکا ہوتا اورشہدائے ماڈل ٹاؤن کے مظلوم ورثاء کو انصاف مل چکا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایک راؤ انوار ہے تو پنجاب میں ایسے درجنوں راؤ نام نہاد خادم اعلیٰ کی آغوش میں پناہ لیے ہوئے ہیں ۔پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کے ہر کارکن نے یہ عہد کررکھا ہے کہ وہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔