3

انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے یوتھ و طلباء تنظیموں پر مشتمل ’’نیشنل یوتھ الائنس ‘‘قائم

پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ کے مرکزی صدر مظہر محمود علوی نے کہا ہے کہ انتہا پسندی، دہشتگردی، ظلم، ناانصافی، کرپشن، بیروزگاری کے خلاف نوجوانوں کو متحد ہو کر مشترکہ جدوجہد کرنی ہو گی، ہر سیاسی اور مذہبی جماعت کا یوتھ ونگ اپنی جماعتی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر نوجوانوں کے مسائل کیلئے ’’نیشنل یوتھ الائنس‘‘ کے پلیٹ فارم سے ملکی استحکام و بقاء کیلئے جدوجہد کرے گا، وسیع مشاورت سے نیشنل یوتھ الائنس کیلئے 15 طلبا اور یوتھ تنظیمات پر مشتمل سنٹرل کور کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، کور کمیٹی کا اجلاس 14 فروری 2018 ء کو مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں ہو گا، عوامی تحریک یوتھ ونگ اجلاس کی میزبانی کرے گی، چودھری علی رضا نت نیشنل یوتھ الائنس کے کنوینئر ہونگے، 14 فروری کے اجلاس میں یوتھ الائنس کے صدر ،نائب صدر ،سیکرٹری جنرل اور دیگر عہدیداران کا انتخاب بھی کیا جائیگا، ان خیالات کا اظہار مظہر محمود علوی نے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں نیشنل یوتھ الائنس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں عوامی تحریک یوتھ ونگ کے جنرل سیکرٹری منصور قاسم اعوان، پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے صدر رانا سلطان، پی ایس ایف کے موسیٰ کھوکھر، جمہوری وطن پارٹی یوتھ ونگ کے صدر کامران سعید عثمانی، انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن سے اویس جمیل گجر،انصاف یوتھ آرگنائزیشن سے مرزا نعمان اور دیگر سیاسی، مذہبی اور طلباء تنظیموں کے عہدیداران نے شرکت کی، اجلاس میں نیشنل یوتھ الائنس کے کنوینئر چودھری علی رضا نت بھی موجود تھے۔ مظہر علوی نے کہا کہ نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ اور فعال سیاسی کردار کیلئے ملک بھر کی یوتھ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کررہے ہیں، یوتھ قیادت کی پروموشن نوجوانوں کو انتہا پسندی، بے راہ روی اور مایوسی سے بچانے کیلئے عملی جدوجہد کی جائیگی۔ ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے نوجوانوں کو مثبت سوچ کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہو گا، نوجوان ملک کا روشن مستقبل اور معمار ہیں، نیشنل یوتھ الائنس میں شامل نوجوانوں کی جدوجہد ملک کو باوقار مقام دلانے کی منزل تک لے جائیگی۔ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے نیشنل یوتھ الائنس کے کنوینئر چودھری علی رضا نت نے کہا کہ نوجوانوں کی عملی تربیت اور کردار سازی کر کے ہی معاشرے کو خوشحال بنایا جا سکتا ہے، کسی بھی تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے نوجوانوں کا متحرک ہونا ضروری ہے، حوصلہ مند اور باصلاحیت نوجوان ہی مایوسی کو امید میں بدل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14 فروری کے اجلاس میں انتہائی اہم فیصلے کیے جائینگے، اجلاس میں ملک کی تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں کے یوتھ ونگز اور طلباء تنظیمات کے قائدین شریک ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ لفاظی کی بجائے عملی اقدامات کو اپنا مقصد بنایا جائے۔ نوجوانوں کی کیریئر کونسلنگ انہیں انتہا پسندی اور مایوسی سے بچانے کیلئے سیمینارز، کانفرنسز، واک ، ٹریننگ ورکشاپس کے ذریعے آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی۔ نیشنل یوتھ الائنس کے ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے 20 رکنی یوتھ کونسل کا قیام بھی عمل میں لایا جائیگا۔