2

عدل و انصاف انسانیت کی خوشحالی اور بقاء کا ضامن ہے۔ رانا محمد ادریس

نائب ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن علامہ رانا محمد ادریس نے کہا ہے کہ انصاف جتنا سستا ہو گا اتنی ہی برائیاں اورناانصافیاں کم ہونگی، جس معاشرے میں انصاف مہنگا ہو جائے تو اس معاشرے میں جرائم اور بدامنی عام ہو جاتی ہے، انصاف ہر فرد کی ضرورت ہے جو اسے بلاتفریق اس کی دہلیز پر ملنا چاہیے، قرآن حکیم میں اللہ کریم نے عدل قائم کرنے کی تلقین فرمائی ہے، عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے، سورۃ النساء میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ جب کوئی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو‘‘ انبیائے کرائم اور رسولوں کی بعثت کا سب سے بڑا مقصد لوگوں کی زندگیوں میں عدل کو قائم کرنا بھی ہے، عدل سے ہی ایک معاشرہ پوری طرح پرامن معاشرہ بن سکتا ہے، مثالی معاشرے کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ انسان اپنے اخلاق و کردار میں عدل قائم کرے، جب تک انسان اپنے کردار اور اخلاق میں عدل قائم نہیں کرے گا اس وقت تک وہ معاشرے میں عدل قائم نہیں کر سکتا، عدل و انصاف ہی انسانیت کی خوشحالی اور بقاء کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، حضور اکرم ﷺ کی ذات مقدسہ پوری انسانیت کیلئے نمونہ عمل ہے، حضور اکرم ﷺ سے تربیت پانے والے صحابہ اکرام نے زندگی کے تمام شعبوں میں کردار و گفتار کے حوالے سے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناانصافی، بدامنی کو جنم دیتی ہے اور انصاف امن، بھائی چارے اور اخوت کو لاتا ہے، حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے ’’بے شک میں اخلاق کی خوبیوں کو تمام کرنے کیلئے مبعوث کیا گیا ہوں‘‘ آپ ﷺ کے اس فرمان عالیشان کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اخلاق کاایک مصداق معاشرے میں عدل قائم کرنا بھی ہے، آپ ﷺ سے رہنمائی لینے والے خلفائے راشدین نے بھی عدل و انصاف کو قائم کیے رکھا جس کی وجہ سے ان کے ادوار میں امن و امان قائم رہا ان کا عدل و انصاف آج دنیا میں رہنے والے تمام انسانوں کیلئے نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعزیرات قرآنی احکامات ہیں جبکہ رسول اکرم ﷺ کے ارشادات اور عمل ان کی تفسیر ہیں۔ قرآن حکیم میں زندگی کے سارے معاملات اور پہلوؤں کی عملی وضاحت اور حل ملتا ہے۔