2

سپریم کورٹ آئین کی شارح اور محافظ ہے ، فیصلے خوش آئند ہیں ۔ ڈاکٹر حسین محی الدین القادری

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے فرزند ڈاکٹر حسین محی الدین القادری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی آئین کی بالا دستی سے مشروط ہے اگر ممبران پارلیمنٹ آئین کے تقدس کو پامال کرنا شروع کر دیں تو ریاستی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے سپریم کورٹ آئین کی شارع اور محافظ ہے ۔ کرپٹ عناصر کے خلاف فیصلے خوش آئند ہیں۔ جس پر چیف جسٹس کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ شریف خاندان اپنے تکبر اور ظلم کی وجہ سے اللّٰہ کی پکڑ میں ہیں۔ یہ اقتدار میں ہونے کے باوجود اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔قومی اداروںپر حملے کرناشریف برادران کی پرانی روش ہے۔یہ بات انہوں نے ملتان میں ڈاکٹر طاہر القادری کی سالگرہ تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی اس موقع پر سردار شاکر مزاری، چوہدری فیاض احمد وڑائچ ، رائو محمد عارف رضوی ، ڈاکٹر زبیر اے خان ، یاسر ارشاد ، میجر محمد اقبال چغتائی ، ملک یاسرصادق ایڈووکیٹ اور دیگر ضلعی رہنما موجود تھے ۔ انہوں نے کہا ان ظالم حکمرانوں نے ماڈل ٹائون میں خون کی ہولی کھیلی۔ سینکڑوں لوگوں کو گولیوں سے چھلنی کیا ۔ ہم چار سال سے اصول انصاف کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیںکہ چیف جسٹس ماڈل ٹائون کے مضلوموں کو بھی انصاف مہیا کریں۔ نااہل شریفوں کو پانامہ کیس میں جیل اور ماڈل ٹائون کیس میں پھانسی کا پھندہ نظر آرہاہے۔ حصول انصاف کے لیے ہماری قانونی و عدالتی جنگ جاری ہے ۔ شہیدوں کا لہو رنگ لائے گا۔ خون کے ایک ایک قطرے کا قصاص ہوگا۔ ڈاکٹر حسین محی الدین القادری نے کہا کہ حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کو محرومی اور پسماندگی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ آج جنوبی پنجاب کی حالت ابتر ہے ۔ ہسپتال اور تعلیمی ادارے بنانے کی بجائے 30ارب روپے میٹرو منصوبہ میں جھونک دیے ۔ اب نیب نے ملتان میٹرو منصوبہ کا راز فاش کر دیا ہے کہ یہ منصوبہ عوام کی مخالفت کے باوجود کیوں بنایا گیا ۔ کسان دشمن حکمرانوں نے کسانوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا۔  آج کسان اپنی فصلوں کو جلانے پر مجبور ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کسانوں کیلئے بجلی فریٹ ریٹ پر مہیا کی جائے ۔ سستی کھاد ، بہتر نکاسی آب اور فصلوں کی اچھی قیمت دی جائے ۔ ملتان کی سڑکوں پر خالی دوڑنے والی 100فیڈر بسیں نا اہل شریفوں کی کرپشن کے قصے سنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملتان جنوبی پنجاب کا دل ہے ، جنوبی پنجاب کی حالت کو بدلنے کے دعوے کرنے والے حکمران ملتان کی حالت بھی نہیں بدل سکے