1

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں مجھے کیوں نکالا کا تفصیلی جواب ہے،آئین کیخلاف قانون سازی کرنے والے اراکین بھی مستعفی ہو جائیں :ڈاکٹر طاہرالقادری

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں مجھے کیوں نکالا کا تفصیلی جواب موجود ہے۔تاریخی فیصلے سے ہمیشہ کیلئے طے پا گیا کہ اب کوئی جھوٹا، خائن، کرپٹ، بدعنوان اور نااہل آئین، پارلیمنٹ ،سیاسی ایوانوں کا کسٹوڈین نہیں ہوسکتا۔ عدالت نے بار دگر بتا دیا کہ نواز شریف کو جھوٹ بولنے، آئین سے کھلواڑ کرنے پر نکالا گیا۔ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ایک فرد کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی جانیوالی قانون سازی کی حمایت کرنے والے اراکین اسمبلی اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں،ایسے تمام اراکین اسمبلی نے آئین، پاکستان، عوام ،پارلیمنٹ کے وقار اور امانت، دیانت کا دفاع کرنے کی بجائے ایک کرپٹ خاندان کا دفاع کیا۔سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ، خرید و فروخت کا نوٹس نہ لینے والے الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا اس سے فیئر اینڈ فری الیکشن کی توقع مت رکھی جائے۔ وہ گزشتہ روز عوامی تحریک کی سنٹرل ورکنگ کونسل کے ممبران سے گفتگو کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اب کرپشن کنگز کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے، انتخابی اصلاحات ایکٹ پر آئین کے مطابق ابہام سے پاک فیصلہ دینے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ اور بنچ کے دیگر معزز ممبران مبارکباد کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ’’ ایلیٹ کرپشن کلب ‘‘ کے ممبرز خواہ ان کا تعلق سیاست سے ہے یا بیوروکریسی سے آج کل احتساب سے بچنے کیلئے جمہوریت کی بقاء، پارلیمنٹ کے تقدس، ووٹ کے احترام، عوام کی حکمرانی جیسی خوبصورت تراکیب کا استعمال کررہا ہے ۔اس قسم کی بیان بازی کرنے والے جمہوریت کی کھال میں سول آمر بھیڑیے ہیں۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہاکہ الحمداللہ ہم نے جس ظالم نظام کے خلاف طویل جدوجہد کی، جانی و مالی قربانیاں دیںآج اس نظام کے خلاف ہر کونے سے آوازیں بلند ہورہی ہیں اور یہ نظام اپنی تمام تر نحوستوں سمیت غرق ہونے جارہا ہے۔ اس ظالم نظام کی غرقابی میں پاکستان کی بقاء ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ اس نظام نے آئین، پارلیمنٹ، اداروں کی بجائے بدنام زمانہ نام نہاد عوامی مافیا کو مضبوط کیا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے تفصیلی فیصلے سے دریا کوزے میں بند ہوا ،یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی آگئی کہ یہ نظام فرد واحد کو فائدہ پہنچاتا اور عدلیہ سمیت آئینی اداروں کے وقار کے خلاف مہم جوئی کرنے والے کرپٹ عناصر کو مضبوط کرتا ہے۔