3

عوامی تحریک کے شہر شہر ورکرز کنونشن شروع مجھے کیوں نکالا کا جواب دینے کا اعلان

پاکستان عوامی تحریک نے پنجاب بھر میں رابطہ کارکن مہم کا آغاز کر دیا اور مجھے کیوں نکالا کا جواب دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ گزشتہ روز ایک ہی دن فیصل آباد اور نارروال میں ورکر زکنونشن منعقد کیے گئے، فیصل آباد میں چیئرمین سپریم کونسل سینئر مرکزی رہنما عوامی تحریک ڈاکٹر حسن محی الدین نے شرکت کی جبکہ نارروال میں منہاج القرآن کے صدر ڈاکٹر حسین محی الدین نے ورکرز کنونشن سے خطاب کیا۔ فیصل آباد ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن محی الدین نے کہا کہ 2018 ء کا الیکشن نااہل اور کرپٹ اشرافیہ کا نائن الیون ثابت ہو گا ،آئین 2012 ء سے ڈاکٹر طاہرالقادری کی زبان سے قوم اور اداروں کو پکار رہا ہے ۔مجھے کیوں نکالاکا شور مچانے والے سن لیں انہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں کی آہوں اور سسکیوں نے نکالا،ڈاکٹر محمد طاہرالقادری آئندہ نسلوں کے خوشحال مستقبل کی جنگ لڑرہے ہیں اور یہ جنگ منطقی انجام تک پہنچے گی،اس جنگ میں ہم نے جانی، مالی قربانیاں دی ہیں،قاتل سن لیں یہ جنگ ادھوری نہیں چھوڑی جائیگی۔انہوں نے جس نظام کو اپنے تحفظ کیلئے پالا پوسہ وہ آج اسی نظام میں یتیم ہو گئے۔ مجھے کیوں نکالا کا شور مچاتے ہوئے گیدڑ جنگل کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ورکرز کنونشن سے خرم نواز گنڈاپور، بشارت جسپال، میاں ریحان مقبول، میاں عبدالقادر، راناطاہرسلیم، محمد وحید، خلیل بھٹہ، میاں محمداشرف، افتخار رندھاوا،ساجد حسین، راجہ زاہد نے خطاب کیا۔ڈاکٹر حسن محی الدین نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے جنوری 2012 ء میں خون جما دینے والے سردی میں 5 دن اور 2014 ء میں جون جولائی کی جھلسا دینے والی گرمی میں 72 دن تک آئین کی پکارعوام تک پہنچائی اور آئین کے آرٹیکل 62,63 کی اہمیت کو اجاگر کیا الحمداللہ آئین کے یہی آرٹیکل قاتل اور لٹیروں کے گلے کا پھندا بنے۔ فیصل آباد ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ آئینی الیکشن کمیشن کی تشکیل اور انتخابی اصلاحات سے حقیقی جمہوریت آئے گی اور عوام کے حقیقی نمائندے اسمبلیوں میں جائیں گے تو ملک کی تقدیر بدلے گی ۔بشارت جسپال نے کہا کہ نواز شریف کا انقلاب یہ ہے کہ کوئی لوٹ مار کی دولت کا حساب مانگے تو اس پر حملہ کر دو ،چھانگا مانگا کے جنگل آباد کرنے والے آج کس ووٹ کے تقدس کی بات کرتے ہیں اور کس کو دھوکہ دے رہے ہیں؟ میاں ریحان مقبول نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سٹیٹس کو کی قوتوں کو عوام کا حق حکمرانی گوارہ نہیں۔ جمہوریت کی آڑ میں ایک خاندان کی حکمرانی کو قبول نہیں کریں گے ،لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوؤں کی اصلیت جون جولائی میں سامنے آجائیگی۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کے عوام اس فرعونی نظام سے ٹکرانے کیلئے صرف تیار ہی نہیں بے تاب بھی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ اشرافیہ کے اس قاتل نظام کی گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا ڈاکٹر طاہرالقادری اور اس کے کارکن دینگے۔ دریں اثناء نارروال میں ورکرز کنونش سے خطاب کرتے ہوئے تحریک منہاج القرآن کے صدر ڈاکٹر حسین محی الدین نے کہا کہ عوامی تحریک اقتدار نہیں اقدار ،وقار اور عوامی خدمت کی سیاست کررہی ہے ۔تحریک منہاج القرآن پاکستان سمیت پوری دنیا میں انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہے۔ یہ اعزاز ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور تحریک منہاج القرآن کو حاصل ہے کہ جس نے آئندہ نسلوں کو دہشتگردی کے عفریت سے محفوظ کرنے کیلئے متبادل بیانیہ دیا۔ فروغ امن نصاب دیا، انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست عوام کو تعلیم دینا ہے ،اسے شعور دینا ہے اور یہ صرف باتیں نہیں ہورہیں اس پر عمل بھی کررہے ہیں ۔ لاہور میں سٹیٹ آف دی آرٹ ادارہ آغوش بنایا، اسی ماڈل پر کراچی میں ادارہ آغوش بنایا جہاں مستحق بچے معیاری عصری تعلیم حاصل کررہے ہیں، اسی طرح سیالکوٹ، خانیوال اور دیگر شہروں میں بھی عوامی خدمت کے ادارے قائم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ڈاکٹر طاہرالقادری ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت کروڑوں انسانوں کیلئے خدمت کے بے مثال ادارے قائم کررہے ہیں اور دوسری طرف قومی خزانے کو ہڑپ کرنے والے ہیں جو آج کل مجھے کیوں نکالا کا شور مچاتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کرپشن، منی لانڈرنگ کے جو حقائق 2012 ء اور 2014 ء کی تحریکوں میں بیان کیے آج پانچ سال بعد ان پر عدالتوں سے فیصلے آرہے ہیں