3

پنجاب پولیس کے بعض ایس ایچ اوز کرائے کے قاتل ہیں: خرم نواز گنڈاپور

پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس کے بعض ایس ایچ اوز کرائے کے قاتل بن چکے اور مختلف خاندانی جھگڑوں میں شامل ہو کر بھاری معاوضے کے عوض جعلی پولیس مقابلے کرتے ہیں ، آئی جی پنجاب بھی حکومتی پشت پناہی والے طاقتور ایس ایچ اوز کے سامنے بے بس ہیں، لاء اینڈ آرڈر کے نام پر جعلی پولیس مقابلوں کی سرپرستی کرنا شہباز حکومت کی سرکاری پالیسی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیخوپورہ اور لاہور سے آئے ہوئے سول سوسائٹی کے عہدیداروں سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں سید وقار الحسن، سید نوبہار شاہ، رائے ناصر علی، رائے ماجد علی شامل تھے، وفد نے سیکرٹری جنرل عوامی تحریک کو بتایا شیخوپورہ کے ایس ایچ او رانا عظیم جسے وفاقی وزیر رانا تنویر کی مکمل سرپرستی حاصل ہے نے وراثتی جائیداد کے تنازع پر قابض پارٹی سے مل کر دو بہنوں سمیت 4 نوجوانوں کو اغواء اور بعدازاں جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا، زندہ بچ جانے والی بیوہ نصرت ایوب کو قتل کے جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے اشتہاری قرار دے دیااور اب اسے بھی قتل کرنے کیلئے ایس ایچ او رانا عظیم چھاپے مارتا پھرتاہے ، وفد نے بتایا 16نومبر 2015 ء کو ایس ایچ او رانا عظیم نے بیوہ نصرت ایوب کے 19سالہ جواں سال بیٹے کو اغواء کیا اور 20 لاکھ روپے رشوت مانگی اور مطالبہ کیا کہ بیوہ نصرت خاندانی وراثت سے تحریری طور پر منحرف ہو جائے، انکار پر 21ستمبر 2015 ء کو 19سالہ زاہد ایوب کو جعلی پولیس مقابلے میں پار کر دیا، زاہد ایوب کی بہنوں سعدیہ ایوب جو بی اے کی طالبہ تھی اور عاصمہ ایوب کو جعلی پولیس مقابلے کیس کی پیروی کرنے پر 26 اکتوبر 2016 ء کو پیشی سے واپس آتے ہوئے مریدکے سے اغواء کر لیا اور پولیس وین میں زبردستی بٹھا کر لے گئے۔ دونوں بہنوں کا آج کے دن تک پتہ نہیں چلا اس کے علاوہ بیوہ نصرت ایوب کی مدد کرنے والے محمد اسلم، غلام علی اور زاہد ایوب کے بھائی فہد ایوب کو بھی اغواء کر لیا جن کا آج کے دن تک پتہ نہیں چلا۔ وفد نے ظلم کی داستان سناتے ہوئے کہا کہ نصرت ایوب کی چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف آف آرمی سٹاف سے استدعا ہے کہ ان کے چار بچے جو ایس ایچ او رانا عظیم کے ظلم کا نشانہ بنے اس کا انہیں انصاف دلوایا جائے۔ زاہد ایوب کو قتل کر دیا گیا مگر فہد ایوب ، سعدیہ ایوب اور عاصمہ ایوب کا آج تک علم نہیں وہ زندہ ہیں یا مردہ ہیں۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ پنجاب پولیس نے گزشتہ دس سال میں جتنا ظلم کیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ،دنیا جانتی ہے وفاقی وزیر رانا تنویر شیخوپورہ کا بدنام زمانہ قبضہ گروپ اور رسہ گیر ہے اس نے چن کر جرائم پیشہ ایس ایچ اوز اپنے حلقے میں تعینات کروا رکھے ہیں وہ سارا ظلم اپنے ان پالتو ایس ایچ اوز اور اہلکاروں سے کرواتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں نے بھی پولیس کا ظلم سہا اور پولیس نے ان کا قتل عام کیا۔ ہم بیوہ نصرت ایوب کی بھی آواز بنیں گے اور انہیں انصاف دلوائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی پنجاب سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے ملوث ہونے کی وجہ سے بے بس ہیں تو شیخوپورہ میں بیوہ نصرت کے خاندان کو برباد کرنے والے شیخوپورہ کے ایس ایچ او رانا عظیم کے معاملے میں بے بس اور لاچار کیوں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم بھی چیف جسٹس سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ بیوہ نصرت ایوب کی آواز سنیں اور انہیں انصاف دیں