1

چیف جسٹس حاجی امین انصاری کو ہراساں کرنے والوں کیخلاف نوٹس لیں: نوراللہ صدیقی, علی جہانگیر صدیقی کم تعلیم یافتہ اور وزیراعظم کے بزنس پارٹنر ہیں: خرم نواز گنڈاپور

علی جہانگیر صدیقی نواز شریف کا حسین حقانی ،مقصد فوج کو ٹف ٹائم دینا ہے، سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک

پولیس نے معصوم زینب کے قاتل کے سہولت کاروں کو شامل تفتیش نہیں کیا: نوراللہ صدیقی

 

پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے بزنس پارٹنر اور کم تعلیم یافتہ ناتجربہ کار، پاکستان کے جغرافیہ سے ناواقف علی جہانگیر صدیقی کی امریکہ میں بطور سفیر تقرری پاکستان کے قومی مفاد کے برخلاف ہے۔ ایک اور حسین حقانی کی پرورش کی جارہی ہے۔ پاک امریکہ تعلقات ایک نازک موڑ سے گزررہے ہیں، اس موقع پر اناڑی کھلاڑی نقصان پہنچائے گا۔ علی جہانگیر صدیقی نواز شریف کا حسین حقانی ،مقصد امریکہ سے خاندان کو ریلیف دلوانے کیلئے مدد حاصل کرنا اور فوج کو ٹف ٹائم دینا ہے کیونکہ دہشتگردی کے خاتمے کی جنگ میں امریکی الزام تراشی اور نواز شریف کا موقف ایک جیسا ہے۔ہم اس تقرری کو سختی سے مسترد کرتے ہیں اور برطرفی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ نے ثابت کر دیا ایک نااہل نواز شریف نہیں پوری ن لیگ سکیورٹی رسک بن چکی ہے۔ وزیراعظم بھی اپنے کاروباری پارٹنر کو پاکستان کے مفاد کی قیمت پر نوازرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علی جہانگیر صدیقی اچھی شہرت کا آدمی نہیں ہے۔ دریں اثناء پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس معصوم بچی زینب کے والد حاجی امین انصاری کو قاتل عمران کے اہلخانہ کی طرف سے ہراساں کیے جانے کا سخت نوٹس لیں اور انہیں تحفظ دیا جائے ،ہراساں کرنے والوں کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حاجی امین انصاری نے چیف جسٹس کے نام اپنی درخواست میں اہم سوال اٹھایا ہے کہ قاتل عمران کے سہولت کاروں کو شامل تفتیش نہیں کیا گیالہٰذا ان سے تفتیش کی جائے۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ پولیس نے تفتیش میں عجلت دکھائی جس سے ان شکوک و شبہات کو تقویت مل رہی ہے کہ کسی کو بچانے کی کوشش ہورہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی پریس کانفرنس کے دوران حاجی امین انصاری کا اپنے ہاتھوں سے مائیک بند کر کے انہیں میڈیا سے مخاطب ہونے سے روکا۔ وزیراعلیٰ نے زینب کے قاتل کی گرفتاری کو سیاسی پروجیکشن کا ذریعہ بنایا۔ معصوم بچی کا والد پنجاب حکومت کی تفتیش سے مطمئن نہیں۔انہوں نے کہا کہ امید ہے چیف جسٹس حاجی امین انصاری کی درخواست پر سخت نوٹس لیتے ہوئے انہیں تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ سہولت کاروں سے تفتیش کرنے کا حکم دینگے