1

ڈاکٹر طاہرالقادری نے نوجوانوں کو ادب اور امن سکھایا:ڈاکٹر حسن محی الدین

جس ملک کے لیڈر لاقانونیت کو فروغ دیں اس قوم کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا
14
لاشیں اٹھائیں انصاف نہیں ملا، مگر عدلیہ کے وقار کیخلاف کوئی بات نہیں کی

تحریک منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے چیئرمین پاکستان عوامی تحریک کے سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر حسن محی الدین نے پی پی 157 مناواں لاہور میں سفیر امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک کے لیڈر لاقانونیت کو فروغ دیں اس قوم کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا، ڈاکٹر طاہرالقادری نے عمر بھر نوجوانوں کو تعلیم دی، ادب اور امن سکھایا، پوری زندگی کردار سازی پر صرف کی،امت مسلمہ کو انتہا پسندی اور دہشتگردی کیخلاف متبادل بیانیہ اور امن نصاب دیا، اسی ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائش گاہ اور علم و امن کے گہوارے منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ کو بے گناہ انسانی خون سے رنگین کیا گیا۔بچوں، بوڑھوں ،خواتین کی لاشیں گرائی گئیں اور انصاف کے دروازے بند کیے گئے پھر بھی ڈاکٹر طاہرالقادری کے امن کے ان سفیروں نے قانون ہاتھ میں نہیں لیا اور انصاف کیلئے آج بھی عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں اور انشاء اللہ اسی دنیا میں بے گناہوں کے بہنے والے قطرے قطرے کا حساب بھی ہو گا اور انصاف بھی۔ سفیر امن کانفرنس سے رفیق نجم، مظہر محمود علوی،حافظ غلام فرید، حاجی فرخ، اشتیاق حنیف مغل،منصور اعوان نے بھی خطاب کیا۔ سفیر امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن محی الدین نے کہا کہ 14 لاشیں اٹھائیں، انصاف نہیں ملا پھر بھی قانون ہاتھ میں نہیں لیا اور نہ ہی عدلیہ کے وقار کے خلاف کوئی حرف شکایت زبان پر لائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر طاہرالقادری کارکنوں کو بدلہ لینے کی اجازت دے دیتے تو قاتلوں کو ان کے گھر کی چار دیواری بھی پناہ دینے سے انکار کر دیتی اور ان پر پاکستان کی زمین تنگ ہو جاتی مگر امن کے ان سفیروں نے انصاف کیلئے صرف عدلیہ کی طرف دیکھا اور قاتلوں کے خلاف کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جو قانون اور اخلاقیات کی نظر میں درست نہ ہو۔انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اداروں اور عوام کو بھی سمجھ آگئی کہ ڈاکٹر طاہرالقادری ہی وہ واحد قیادت ہیں جس نے صرف علم اور امن کا پیغام دیااور کسی بھی نازک مرحلے پر انتقام اور بدلے کے جنون کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا، آج آئینی عدالتوں کے فیصلے آنے پر بھی جمہوریت کے نام نہاد دعویدار اور مستند جھوٹے انتقام اور جنون میں اس حد تک اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں اس جنون میں سپریم کورٹ، فوج، پارلیمنٹ، پاکستان، عوام ،سیاسی لیڈر شپ کسی کے وقار کا بھی پاس نہیں رہا۔ انہوں نے کانفرنس کے اختتام پرمناواں سے تعلق رکھنے والی ماڈل ٹاؤن کی شہداء شازیہ مرتضیٰ اور تنزیلہ امجد کے لواحقین سے ملاقات کی، ان کے جذبہ استقامت اور تحریک سے والہانہ وابستگی پر انہیں خراج تحسین پیش کیا، انہوں نے کہا کہ تنزیلہ امجد اور شازیہ مرتضیٰ عالم ارواح سے اپنے قاتلوں کا عبرتناک انجام اور قدرت کا انتقام دیکھ رہی ہیں اور یہ ابھی ابتداء ہے، انہوں نے کہا کہ جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا مصطفی ؐ ہوتا ہے اور جس کا مصطفی ؐ ہوتا ہے اسی کا خدا ہوتا ہے ۔پاکستان کے مظلوموں، مجبوروں کی آہیں اور سسکیاں عرش تک پہنچ گئیں وقت کے فرعونوں کی گلیوں سڑکوں پر آہ و بکا اور واویلا کرنا اس کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ قدرت کی گرفت میں ہیں۔ سیمینار ہال میں پہنچنے پر یوتھ لیگ اور پی پی 157 کی مقامی تنظیم نے ڈاکٹر حسن محی الدین پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے ان کا والہانہ استقبال کیا ۔سیمینار ہال میں مقامی تنظیم کے عہدیداروں اویس مصطفوی، محمد عمر اعوان، سلیمان عنایت، زاہد رومی، محمد نواز نے رہنماؤں کا استقبال کیا