2

پاکستان کی تقدیر بدلنے والی ساری اشرافیہ نیب کے زیر علاج ہے: ڈاکٹر طاہر القادری

اشرافیہ نے ہر دور میں جاتے ہوئے معیشت کا جنازہ نکالا
جس ملک کے حکمرانوں کی کوئی اقدار نہ ہوں اس ملک کی کرنسی بھی بے قدر ہوتی ہے
ڈالر میں اضافہ اور ایمنسٹی سکیموں کا فائدہ صرف کالے دھن والوں کو ہوتا ہے
آج کی کاسمیٹکس ترقی غیر ملکی قرضوں کی مرہون منت،قرضہ 94ارب ڈالر سے بڑھ گیا
حکومت کا ’’معاشی سرجن‘‘ منی لانڈرنگ کیسز میں عدالت کو مطلوب اور مفرور ہے

 

 پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ اشرافیہ نے ہر دور میں جاتے ہوئے معیشت کا جنازہ نکالا،حکومت کا معاشی سرجن آجکل منی لانڈرنگ کیسز میں عدالت کو مطلوب اور مفرور ہے،غیر ملکی قرضہ 94ارب ڈالر سے بڑھ گیا ،جس ملک کے حکمرانوں کی کوئی اقدار نہ ہوں اس ملک کی کرنسی بھی بے قدر ہوتی ہے،ڈالر میں اضافہ اور ایمنسٹی سکیموں کا فائدہ صرف کالے دھن والوں کو ہوتا ہے۔ اشرافیہ کی کاسمیٹکس ترقی غیر ملکی قرضوں کی مرہون منت ہے۔ ٹیکس چوروں،کمیشن خوروں اور منی لانڈرنگ کرنیوالوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے حکومتی اشارے پر راتوں رات ڈالر کی قیمت میں 5روپے اضافہ کیا گیا۔اس غیر معمولی اضافہ پر وزرات خزانہ اور سٹیٹ بنک کی طرف سے فوری پالیسی بیان سامنے نہ آنا حیران کن ہے۔ لگ رہا ہے الیکشن کے اخراجات پورے کرنے ،مینڈیٹ کی خرید و فروخت کیلئے حکومت میں بیٹھے مافیا نے کسی ایمنسٹی سکیم کے ذریعے کالا دھن پاکستان داخل کرنیکی منصوبہ بندی کی ہے۔ پاکستان کو قرضوں کی دلدل میں اس حد تک دھنسا دیا ہے کہ اب سود ادا کرنے کیلئے بھی بھاری سود پر قرضے لینے پڑ رہے ہیں۔پاکستان کی تقدیر بدلنے والی ساری اشرافیہ نیب کے زیر علاج ہے۔وہ گزشتہ روز پاکستان عوامی تحریک کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران سے ٹیلی فون پر گفتگو کر رہے تھے ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں راتوں رات اضافہ تحقیق طلب ہے،اس اضافہ سے غیر ملکی قرضوں اور سود کی قسط میں اضافہ،پٹرول،ڈیزل،بجلی کی قیمتوں میں اضافہ سمیت مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا جسکا خمیازہ کسی نہ کسی شکل میں اس ملک کا کسان،مزدور،کلرک اور کم آمدنی والا شہری بھگتے گا۔انہوں نے کہاکہ نواز لیگ نے ہمیشہ بہترین اقتصادی ٹیم رکھنے اور معاشی مہارت کے دعوے کیے مگر ہر دور میں جاتے ہوئے ملکی معیشت کو عالمی مالیاتی اداروں کی بیساکھیوں پر کھڑا کر کے گئے ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت زر مبادلہ کے ذخائر 2007 کی سطح سے بھی نیچے آ چکے ہیں۔ درآمدات ،برآمدات سے زیادہ ہیں،گردشی قرضہ 2013کے مقابلے میں ڈبل ہو چکا ہے۔حکومتی کرپشن اور بیڈ گورننس کی وجہ سے سرکاری کارپوریشنوں کا خسارہ بھی دوگنا ہو گیا مگر آج تک تباہ حال ملکی معیشت پر پارلیمنٹ میں بحث تک نہیں ہوئی۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاکہ پاکستان دنیا کے پسماندہ ترین ممالک کی فہرست میں147ویں نمبر پر ہے ۔1960میں پاکستان میں فی کس آمدن 100ڈالر تھی اور جنوبی کوریا میں فی کس آمدن 60ڈالر تھی،آج جنوبی کوریا کی فی کس آمدن 11ہزار ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور دنیا کو ائیر لائن کے شعبے میں ٹریننگ دینے والی پی آئی اے بند ہونے کے قریب ہے اور حکمران ڈھٹائی سے کہتے ہیں ایک ڈالر میں ادارے خرید لو۔انہوں نے کہاکہ قومیں شفافیت،گڈ گورننس اور ایماندار حکومتی انفراسٹرکچر سے مضبوط اور عظیم بنتی ہیں،افسوس 21ویں صدی میں بھی پاکستان بددیانت اور بد قماش سیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں یر غمال ہے