1

سانحہ ماڈل ٹاؤن جن پر فرد جرم عائد ہوئی انہیں فوری عہدوں سے ہٹایا جائے: پاکستان عوامی تحریک

شریف برادران،وزیر قانون اور حواری نہ پکڑے گئے تو اسے مکمل انصاف نہیں کہا جا سکے گا
ملزمان اہم پوزیشنزپر براجمان رہے تو انصاف اور فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں ہونگے
خرم نواز گنڈاپور، جواد حامد، نعیم الدین چودھری، سردار غضنفر، شکیل ممکا ودیگر کی گفتگو

 

پاکستان عوامی تحریک کے رہنماؤں نے انسداد دہشتگردی عدالت لاہور کی طرف سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد ہونے پر اسے انصاف کی طرف ایک پیش رفت قرار دیا ہے اور اس کے ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قتل عام میں حصہ لینے والے جن پولیس افسران اور اہلکاروں پر فرد جرم عائد ہوئی ہے انہیں فوری عہدوں سے ہٹایا جائے، رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی سرپرستی اور ہدایت کے مطابق ساری توجہ قانونی حوالے سے حصول انصاف پر مرکوز کررکھی ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور، مستغیث جواد حامد اور نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ نے فرد جرم عائد کیے جانے کے فیصلے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرد جرم ان افسران پر عائد ہوئی جو ٹول کے طور پر سانحہ میں ملوث تھے، جنہوں نے منصوبہ بندی کی اور ہدایات دیں ان میں سے کوئی بھی تاحال طلب نہیں ہوا، جن کی طلبی کیلئے ہم لاہور ہائیکورٹ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی کردار سابق آئی جی مشتاق سکھیرا نے سٹے آرڈر لے رکھا ہے اور وہ بچنے کی کوشش کررہے ہیں امید ہے لاہور ہائیکورٹ مرکزی کردار کی درخواست خارج کر کے انہیں ٹرائل کا حصہ بننے کا حکم دے گی، خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد سانحہ میں ملوث پولیس افسران عہدوں پر برقرار رہے تو انصاف اور فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں ہو سکیں گے اور شریف برادران،وزیر قانون پنجاب اور حواری نہ پکڑے گئے اورٹرائل کا حصہ نہ بنے تو اسے مکمل انصاف نہیں کہا جا سکے گا، مستغیث جواد حامد نے کہا کہ سانحہ کے ماسٹر مائنڈ حکمرانوں کی طلبی کیلئے نئی جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کی مانیٹرنگ ضروری ہے، اس حوالے سے بھی قانونی چارہ جوئی کررہے ہیں۔نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، شکیل ممکا ایڈووکیٹ، سردار غضنفر حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کیلئے صبر آزما قانونی جدوجہد کررہے ہیں یہ بے گناہوں کا خون ہے سر چڑھ کر بولے گا ،آج نہیں تو کل سانحہ کے ماسٹر مائنڈ شریف برادران اور ان کے حواری بھی کٹہرے میں آئیں گے۔ نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ نے کہا کہ گزشتہ اتوار شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء نے چیف جسٹس سے ملاقات کی تھی اور اپیل کی تھی کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ بے گناہ پاکستانی شہریوں کے قتل عام کے اس سانحہ کے تمام کردار اپنے انجام سے دوچار ہونگے۔