4

پاکستان نظریاتی ریاست ، انتہاپسندی سے پاک کرینگے: ڈاکٹر حسن محی الدین القادری

 شب معراج کی مقدس رات بھی لوڈ شیڈنگ کر کے حکمرانوں نے بدد عائیں لیں
معراج کی شب فضیلتیں قدم قدم آپ ﷺ کے ہم رکاب تھیں

 

 

تحریک منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر حسن محی الدین القادری نے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ ’’معراج النبی ﷺ کانفرنس‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کیلئے حاصل کیا گیا،اس نظریاتی ریاست کو انتہا پسندی،جہالت اور تنگ نظری سے پاک کر کے اسے حقیقی معنوں میں اسلام کی حقیقی تجربہ گاہ میں تبدیل کیا جائے گا۔شب معراج کی مقدس ،بابرکت اور روشنیوں والی رات میں بھی لوڈ شیڈنگ کر کے حکمرانوں نے اسلامیان پاکستان اور عاشقان رسول ﷺ کی بدد عائیں لیں۔اس موقع پر علامہ فرحت حسین شاہ،علامہ غلام مرتضیٰ علوی ، فیاض وڑائچ، جواد حامد،میر آصف اکبر،راجہ زاہد،حافظ غلام فرید موجود تھے۔ معراج النبی ﷺ کانفرنس میں علماء ،مشائخ و مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے دعائیں کی گئیں،ڈاکٹر حسن محی الدین نے قرآن و سنت کی روشنی میں فلسفہ سفر معراج پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اسکی علمی،روحانی،اخلاقی،اصلاحی،تدریسی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہاکہ طائف کے بازاروں میں سنگ باری نے اللہ کے محبوب ﷺ کو ملول کر دیا تھا، رب کائنات نے اپنے محبوب ﷺ کی دلجوئی فرماتے ہوئے آپ ﷺ کا دامن عظمتوں اور رفعتوں سے بھر دیا اور منصب رسالت ﷺ کو نئی شان عطا کی۔شب معراج تاجِ عظمت حضور ﷺ کے سر اقدس پر رکھا گیا، معراج کی شب فضیلتیں قدم قدم پر آپ ﷺ کے ہم رکاب رہیں۔سفرِ معراج حضور ﷺ کا ایک معجزہ ہے اور معجزہ رب کائنات کی قدرت کا مظہر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر حسن محی الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ نقوشِ کف پائے محمد ﷺ سے لوحِ افلاک پر شوکت انسانی کی جو دستاویز مرتب ہوئی وہ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی دلیل ہی نہیں بلکہ ایک ایسا مینار نور بھی ہے جو تسخیر کائنات کے ہر مرحلے پر آنے والی ہر نسلِ انسانی کے راستوں کو منور کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ کی معراج کاپہلوئے بشریت، عالم بشریت کو فیض پہنچانے کیلئے تھا، آپ ﷺ کو نسل انسانی کی رشد و ہدایت کیلئے جامہ بشریت میں مبعوث فرمایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج سائنسی علوم کائنات کی سچائیوں سے پردہ اٹھارہے ہیں اور قدم قدم پر نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں اوراسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی آفاقی تعلیمات کی سائنسی توجیہہ خود بخود ہوتی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سفرِ معراج میں قاب قوسین کا ذکر جمیل اس تواتر سے ہوا ہے کہ ذہنوں میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ قاب قوسین سے کیا مراد ہے؟ اس کا قرآنی مفہوم کیا ہے؟ قرآن حکیم میں اللہ رب العزت نے اپنے حبیب ﷺ سے انتہائی قرب و وصال کو قاب قوسین کی بلیغ وجمیل عام فہم تمثیل سے بیان فرمایا ہے تاکہ عرب اپنی روزمرہ زبان اور محاورے کے مطابق اس بات کا مفہوم پوری طرح سمجھ سکیں، قوسین سے مراد کمانیں یا ابرو یا بازو ہیں اور قاب فاصلے کی اس مقدار کو کہتے ہیں جو دو کمانوں کے درمیان ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معراج کی شب کوئی چیز پردہ غیب میں نہ رہی ۔ سفرِ معراج کے ذریعے حضور نبی اکرم ﷺ پر تمام حقیقتوں کو منکشف کیاگیا ۔