3

حصول علم کا بنیادی ذریعہ کتاب ہے: ڈاکٹر حسن محی الدین

منہاج القرآن کے بانی و سرپرست ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ایک ہزار کتب تصنیف کیں
آئی ٹی انقلاب کے باوجود کتاب کی اہمیت مسلمہ ہے،فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں تقریب

 

تحریک منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر حسن محی الدین نے کتاب کے عالمی دن کے موقع پر فرید ملت ریسرچ انسٹیٹیوٹ ماڈل ٹاؤن میں منعقدہ فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی یوم کتاب پیغام دیتا ہے کہ کتاب قوم کی تہذیب، ثقافت، معاشی، سائنسی اور علمی ترقی کی آئینہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کی بہترین دوست بھی ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کے باوجود کتاب کی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ قائم ہے۔ کتاب سے دوستی رکھنے والا کبھی تنہا نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ کتاب سوسائٹی کے افراد کی تربیت اور تعلیم میں جو کردار ادا کرتی ہے کوئی بھی معاشرہ اس کی افادیت اور اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا، کتب بینی فرقہ واریت، علاقائیت اور قومیت جیسے خوفناک مسائل سے نکال کر معاشرے کو انسان دوستی، بھائی چارے اور روحانی قدروں کی طرف لاتی ہے،منہاج القرآن کے بانی و سرپرست شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ایک ہزار کتب تصنیف کیں،علمی ذخیرے میں اضافہ کیا اور کتاب بینی کے کلچر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ، انہوں نے کہا کہ حصول علم کا بنیادی ذریعہ کتاب ہے جو اپنے دامن میں عقل و دانش کے صدیوں پرانے جواہر پارے سمیٹے وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ بدلنے والی قوموں اور حالات زمانہ کے حقیقی خدوخال کی امین بن کر آنے والی نسلوں کیلئے رہنمائی کا فریضہ ادا کرتی ہے ۔اس موقع پر خرم نواز گنڈا پور ،بریگیڈئر(ر)اقبال احمد خان،فیاض وڑائچ،انجنیئر رفیق نجم،علامہ رانا محمد ادریس ،ڈائریکٹر فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ محمد فاروق رانا ،اجمل علی مجددی ،محمد افضل قادری،عین الحق بغدادی ،جواد حامد ،عرفان یوسف،منصور قاسم ،افنان بابر و دیگر بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر حسن محی الدین نے کہا کہ جہالت اور لاعلمی کو دور کرنے کیلئے کتابوں کو دوست بناناہو گا، کتب خانوں سے تعلق جوڑنا ہو گا، انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی سطح پر کاغذ سستا ہونا چاہیے تاکہ چھپائی کے اخراجات میں کمی آسکے، جدید سائنسی معلومات، ٹیکنالوجی، ادب، تاریخ،عمرانیات و اخلاقیات جیسے مضامین کی درس و تدریس کیلئے کتابوں کی اشاعت زیادہ سے زیادہ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام میں آغاز وحی کا سلسلہ ہی اقراء سے ہوا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ایک عالم کو ایک زاہد پر وہی فضیلت ہے جو مجھے ایک عام مسلمان پر۔ انہوں نے کہا کہ قرآن پاک میں اللہ کریم فرماتا ہے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے کبھی برابر نہیں ہو سکتے بلکہ جاننے والوں کو دیکھنے والے جبکہ نہ جاننے والوں کو اندھوں سے تشبیہ دی ہے۔