1

مزدوروں کی رجسٹریشن یقینی بنانے کیلئے چیف جسٹس ایکشن لیں:عوامی تحریک

چیف جسٹس کا ایکشن لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں میں معاشی انقلاب کا باعث بنے گا
مل مالکان کو خوش کرنے کیلئے حکومت نے مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا:اشتیاق چودھری
حکمرانوں نے ٹیکس چوروں کوایمنسٹی سکیم دی، مزدوروں کوکچھ نہیں دیا :مرکزی صدرلیبر ونگ

 

 

پاکستان عوامی تحریک لیبر ونگ کے مرکزی صدر اشتیاق چودھری ایڈووکیٹ نے یکم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ خصوصی فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مفاد عامہ اور انسانی حقوق کے تحفظ میں دن رات کوشاں چیف جسٹس آف سپریم کورٹ مزدوروں کی رجسٹریشن یقینی بنانے کیلئے ایکشن لیں، ان کا یہ ایکشن لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں میں معاشی انقلاب برپا کر دے گا،انہوں نے کہا کہ مل مالکان مزدور کے خون پر اپنے محلات تعمیر کرتے ہیں، شاہانہ زندگی بسر کرتے ہیں لیکن وہ نہ کچھ مزدور کو دیتے ہیں اور نہ ہی خزانے کو ٹیکس دیتے ہیں، اس لوٹ مار کے نظام کو بدلنا ہو گا۔مل مالکان کو خوش کرنے کیلئے حکومت نے مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا۔اس موقع پر حاجی محمد اسحاق، الطاف رندھاوا، میاں طاہر یعقوب، امیر لاہور حافظ غلام فرید، میاں محبوب، حفیظ الرحمن، میاں افتخار، فاروق علوی و دیگر رہنماؤں اس موقع پر اجلاس میں شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے اپنے چھٹے بجٹ میں مزدوروں کی کم سے کم اجرت میں اضافہ نہ کر کے مزدور دشمنی کی انتہا کی ،اب نااہل ٹولہ اس کی سزا بھگتنے کیلئے تیار رہے، گزرے ہوئے پانچ سال مزدور دشمنی کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ کے بدترین سال ہیں، مزدوروں کا استحصال کرنے والے ٹیکس چور، صنعت کاروں، تاجروں، مل مالکان کی بلیک منی کو تحفظ دینے کیلئے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا گیا لیکن بجٹ میں مزدوروں کو کچھ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کا اس وقت سے بڑا مسئلہ ان کی رجسٹریشن نہ کرنا ہے۔ مزدور کے استحصال کا درازہ اسی غیر قانونی عمل سے کھلتا ہے۔ صرف لاہور میں 2 لاکھ سے زائد مزدور مختلف فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں جبکہ رجسٹرڈ صرف 10 ہزار مزدور ہیں،یہ ایک بڑا ظلم ہے اور اشرافیہ اور ٹیکس چور صنعتکاروں اور مل مالکان کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوران ڈیوٹی مزدوروں کی حادثاتی اموات خطے میں سب سے زیادہ ہیں لیکن انہیں کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا، اللہ کے رسول ﷺنے مزدوروں کو اللہ کا دوست قرار دیا لیکن اللہ کے دوستوں کے ساتھ قاتل اشرافیہ نے دشمنی کی انتہا کر دی۔ انہوں نے کہا کہ مزدور کی تنخواہ سونے کے ایک تولے کے برابر کی جائے، مزدوروں کی رجسٹریشن کروانے سے انکار کرنے والی ملوں اور فیکٹریوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ دوران ڈیوٹی حادثاتی اموات کی روک تھام کیلئے سخت قانون سازی کی جائے اور کم سے کم اجرت میں اضافہ کیا جائے، مزدوروں کے بچوں کو مفت تعلیم اور صحت کی سہولتیں بذریعہ قانون فراہم کی جائیں ،مزدوروں کا استحصال بند کیا جائے۔