3

نواز شریف کے حکم پر ڈاکٹر طاہرالقادری کے طیارے کا رخ بدلاگیا:جواد حامد

ایف آئی آر کے اندراج سے انکار اور غیر جانبدار جے آئی ٹی کیلئے پرامن مارچ کیا،مستغیث
دہشتگردی کیخلاف فتویٰ2010 ء میں لکھا گیا، پی پی دور میں انتخابی اصلاحات کیلئے لانگ مارچ ہوا ،جرح
ڈاکٹر طاہرالقادری سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر موجود ہوتے ہیں  ملزمان کے وکلاء ، کیس کے متعلق بات کی جائے:وکلاء

سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کے سلسلے میں مستغیث جواد حامد کے بیان پر پانچویں روز جرح جاری رہی، پولیس ملزمان کے وکلاء نے سوال کیا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے طیارے کا رخ کس کے کہنے پر اسلام آباد سے لاہور کی طرف بدلا گیا؟مستغیث جواد حامد نے کہا مرکز میں ن لیگ کی حکومت میں نواز شریف کے کہنے پر ڈاکٹر طاہرالقادری کے طیارے کا رخ اسلام آباد سے لاہور کی طرف بدلا کیونکہ شیڈول کے مطابق کارکنان کے علم میں تھا کہ ان کے قائد اسلام آباد آرہے ہیں، اس لیے وہ ان کے استقبال کیلئے اسلام آباد ایئرپورٹ جمع ہورہے تھے ،حکومت نے گھبرا کر طیارے کا رخ زبردستی لاہور کی طرف موڑ دیا، ملزمان کے وکلاء نے دوران جرح کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری ہر روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹس، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر موجود ہوتے ہیں جس کے جواب میں وکلاء عوامی تحریک نے کہا کہ ان سوالات کا کیس سے کیا تعلق ہے، وقت ضائع نہ کیا جائے،ٹو دی پوائنٹ سوال کیے جائیں،جواد حامد نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کے بانی و سرپرست ہیں اور اس تحریک کا نیٹ ورک دنیا کے 100 ممالک میں قائم ہے اور لیکچرز اور علمی مصروفیات کے باعث وہ مختلف ممالک کا دورہ کرتے رہتے ہیں، ملزمان کے وکلاء کے ایک سوال کے جواب میں جواد حامد نے بتایا کہ جنوری 2012 ء میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں انتخابی اصلاحات کیلئے لانگ مارچ کیا تھا 2014 ء کا انقلاب مارچ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کی ایف آئی آر کے اندراج اور غیر جانبدار جے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے تھاکیونکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پنجاب حکومت ملوث تھی اور ماڈل ٹاؤن کے شہریوں کو محصور کر دیا گیا تھا، ایف آئی آر درج نہیں ہونے دی جارہی تھی، ملزمان نے جرح کے دوران سب سے زیادہ سوال و جواب ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے انسداد دہشتگردی کے بارے میں دئیے گئے مبسوط فتویٰ کے حوالے سے کیے گئے، جواد حامد نے مزید کہا کہ 17 جون 2014 ء کے دن کا ایکشن پولیس کی طرف سے یکطرفہ تھا آپریشن کی نگرانی ڈی آئی جی رانا عبدالجبار اور ایس پی طارق عزیز نے کی، 16 جون 2014 ء کی رات رانا عبدالجبار اور ایس پی طارق عزیز نے منہاج القرآن کے عہدیداروں سے بات کی، یہ گفتگو اچانک ہوئی، ہماری طرف سے باضابطہ طور پر کوئی ٹیم تشکیل نہیں دی گئی تھی اور چونکہ یہ واقعہ خلاف توقع تھا اس لیے پولیس افسران جب آئے اس وقت خرم نواز گنڈاپور، الطاف حسین شاہ اور طیب ضیاء دفتر میں موجود تھے، انہوں نے پولیس افسران سے گفتگوکی، عوامی تحریک کے عہدیدار اور کسی کارکن کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا، وہ مکمل پرامن تھے اور پولیس افسران سے کہا گیا کہ اگر آپ کے پاس حفاظتی انتظامات ختم کرنے کا کوئی مجاز اتھارٹی کا آرڈر ہے تو دکھائیں مگر پولیس افسران ایساکوئی حکم نامہ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔