2

سانحہ ماڈل ٹاؤن، اے ٹی سی جج کی طرف سے حاضری لگا کر غائب ہونے والے پولیس افسروں کی سرزنش

عوامی تحریک نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دو چشم دید زخمی گواہ انصر حیات ملک اور فداحسین پیش کر دئیے
حاضری لگا کر غائب ہونے والے ایس پی معروف صفدر واہلہ کو وارننگ، مزید سماعت آج 17اگست کو ہو گی

 

 

سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں انسداد دہشتگردی عدالت لاہور میں حاضری لگا کر غائب ہونے اور وردی پہن کر عدالت میں پیش ہونے پر اے ٹی سی جج نے ایس پی معروف صفدرواہلہ کی سرزنش کی اور ہدایت کی کہ استغاثہ میں نامزد ملزمان روزانہ سماعت تک عدالت میں موجود رہیں، انہوں نے ایس پی معروف صفدر واہلہ کو عدالت میں موجود نہ ہونے پر انہیں فوری گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا، یہ حکم جاری ہوتے ہی ایس پی معروف صفدر واہلہ وردی میں عدالت میں پیش ہوئے جس پر شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کے وکلاء نے بھی شدید احتجاج کیا کہ ایک ملزم وردی اور پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں آ کر ہراساں کرنے کی کوشش کررہا ہے، اے ٹی سی جج نے ملزمان کو رویہ درست کرنے کی ہدایت کی، گزشتہ روز انسداد دہشتگردی کی عدالت میں عوامی تحریک کی طرف سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دو چشم دید گواہان انصر حیات ملک اور فدا حسین کو پیش کیا، دونوں گواہان نے بتایا کہ پولیس افسران کے حکم پر ان پر تشدد کیا گیا اور انہیں شدید مضروب کیا گیا، عوامی تحریک کی طرف سے پیش کیے جانے والے گواہان پر پولیس ملزمان کے وکلاء نے جرح کی مزید سماعت آج 17 اگست کو اے ٹی سی لاہور میں ہو گی، عوامی تحریک کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، سردار غضنفر حسین ایڈووکیٹ ،مستغیث جواد حامد اور شکیل ممکا ایڈووکیٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے چشم دید گواہان پیش کیے ہیں جنہوں نے تشدد کا حکم دینے والے افسران کی نشاندہی بھی کی ہے اور تشدد اور قتل و غارت گری کے جملہ ثبوت عدالت میں پیش کیے گئے، ثبوت اتنے ٹھوس اور واضح ہیں کہ ملزمان ان سے انحراف نہیں کر سکتے، انہوں نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کو انصاف ملے گا اور قتل عام میں حصہ لینے والے اور اس کا حکم دینے والے اپنے عبرتناک انجام سے نہیں بچ سکیں گے۔