3

ایٹمی اور زرعی ملک پاکستان میں قحط سے اموات کی خبروں پر دل خون کے آنسو روتا ہے: ڈاکٹر طاہرالقادری

تھر میں 400بچے موت کے منہ میں چلے گئے، ذمہ داروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی: ڈاکٹر طاہرالقادری

’’گلوبل ہنگر انڈیکس‘‘ کے مطابق 119ممالک میں سے پاکستان کا نمبر 106ہے: ڈاکٹر طاہرالقادری

 

 

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ ایٹمی اور زرعی ملک پاکستان میں قحط اور غذائی قلت سے بچوں کی اموات کی خبریں پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، غذائی قلت اور قحط سے متاثرہ علاقوں کے عوام اور بچوں کی ہنگامی بنیادوں پر مدد کی جائے، تھر میں ہر سال سینکڑوں بچے بھوک، بیماری اور قحط سے جان کی بازی ہارجاتے ہیں مگر ذمہ داروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی،وہ گزشتہ روز منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر امجدعلی شاہ اور دیگر عہدیداروں سے ٹیلیفون پر بات چیت کررہے تھے، اس موقع پر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر نے عید قربان کے حوالے سے اجتماعی قربانیوں کے انتظامات کے بارے میں بریفنگ دی، ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر میںیو این کی رپورٹ کے حوالے سے واضح کیا گیا تھا کہ پاکستان غذائی قلت کے شکار خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل ہے اور ہر پانچواں شخص غذائی کمی کا شکار ہے اور خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں، ’’گلوبل ہنگر انڈیکس‘‘ کے مطابق غذائی قلت کا شکار 119 ممالک کی فہرست میں پاکستان 106 نمبر پر ہے، انہوں نے کہا کہ افسوس اس غذائی قلت کے بحران کوالمیہ بننے سے روکنے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں ہوئے ورنہ تھرمیں ایک سال کے اندر 4سو بچوں کی اموات کی افسوسناک خبریں پڑھنے کو نہ ملتیں، انہوں نے کہا کہ رواں سال تھر میں 4 سو سے زائد بچے جاں بحق ہوئے، تھر کی 7 تحصیلوں کے 23 سو دیہاتوں میں رہائش پذیر لاکھوں نفوس عرصہ دراز سے غذائی قلت کا شکار ہیں اور تاحال سرکاری سطح پر متاثرہ خاندانوں کیلئے کوئی لائحہ عمل طے کیا گیا نہ ہی حالیہ قحط سالی کے حوالے سے کسی قسم کی امدادی کارروائیاں شروع ہوئیں یہ افسوسناک اور سنگین غفلت ہے۔سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کو ہدایت کی کہ عید قربان پر حفظان صحت کے جملہ اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے پسماندہ اور قحط سے متاثرہ علاقوں کے عوام تک قربانی کا گوشت ترجیجاً پہنچایا جائے اور غریب اور دکھی انسانیت کو عید کی خوشیوں میں شریک کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ دین ہو یا سیاست انسانی خدمت اور کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا جذبہ اس کی اصل روح ہے، انہوں نے کہا کہ انسانی خدمت کے شعبہ میں بے مثال خدمت اور شفافیت کی وجہ سے اندرون، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا منہاج ویلفیئر کے علمی فلاحی منصوبہ جات پر کامل یقین ہے۔