1

آئندہ بجٹ میں تعلیمی شعبے میں تبدیلی نظر آنی چاہیے:عوامی تحریک

ماضی کی حکومتیں ہر سال 1فیصد شرح خواندگی بڑھاتیں تو آج یہ شرح 81فیصد ہوتی: نور اللہ صدیقی

عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کا ہونہار طلباء کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب

تقریب سے مرزا علی رضا بیگ،مرزا خورشید بیگ،رفیع صحرائی ،منیر رضا،چوہدری مظہر، اسلم وٹوودیگر کا خطاب

 

 

پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نور اللہ صدیقی نے کہا ہے کہ تعلیم کے بغیر ترقی کا کوئی ہدف بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا، خوشحال ممالک کی ترقی کا راز اعلیٰ تعلیم و تربیت ہے، ماضی میں تعلیم سے محبت محض الفاظ کی ادائیگی تک محدود تھی،موجود حکومت تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنائے اور زیادہ سے زیادہ فنڈز تعلیم کی فراہمی،اساتذہ کی تربیت اور بنیادی سہولتیں دینے کے لیے مختص کرے،آئندہ بجٹ میں تعلیم کے شعبے کو دیئے جانے والے فنڈز میں بھی تبدیلی نظر آنی چاہیے،نامساعد حالات کے باوجود تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کی حکومتی اور عوامی سطح پر پذیرائی ہونی چاہیئے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے منڈی احمد آباد ڈسٹرکٹ اوکاڑہ میں میڑک کے امتحان میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات کے اعزاز میں مرزا بابر بیگ میموریل ٹرسٹ کے تحت منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،تقریب سے سابق سٹی ناظم مرزا علی رضا بیگ،مرزا خورشید بیگ،رفیع صحرائی،منیر احمد رضا،چوہدری مظہر زیدی،رمضان شاہین،محمد اسلم وٹو،محمد ثناء اللہ نے بھی خطاب کیا اور طلباء وطالبات میں شیلڈز اور نقد انعامات تقسیم کئے۔نور اللہ صدیقی نے خطاب میں کہا کہ قیام پاکستان کے وقت شرح خواندگی 11فیصد تھی،ماضی کی حکومتیں ہر سال شرح خواندگی میں ایک فیصد بھی اضافہ کرتیں تو آج یہ شرح 81 فیصد ہوتی،جوکہ 58 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بنیادی تعلیم کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے، چونکہ یہ بچے کی بنیاد ہوتی ہے مگر دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی شعبے کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی جاتی ہے،پرائمری سکولوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے، سکول ٹرینڈ اساتذہ کی کمی کا شکار ہیں،سرکاری سکولوں کی ایک بڑی تعداد بجلی،گراؤنڈ،واش روم اور چار دیواری جیسی سہولیات سے بھی محروم ہیں، انہوں نے کہا کہ ان مشکل حالات میں تعلیم دینے کا اہم فریضہ انجام دینے والے اساتذہ سلیوٹ کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت جلد اپنا پہلا بجٹ دینے جا رہی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ تعلیم کا ترقیاتی بجٹ بڑھایا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اساتذہ کی تعلیم و تربیت کو خصوصی توجہ حاصل ہوگی اور تعلیم کے ترقیاتی بجٹ کے 100فیصد استعمال کو یقینی بنانے کے لیے محکمانہ استعداد کار کو بڑھایا جائے گا۔تقریب میں امتحان میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنیوالے بچوں کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے سٹیج پر بٹھایا گیا۔