2

تحریک انصاف بطور جماعت شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثا کو انصاف دلوانے کی جدوجہد میں ساتھ رہی:خرم نواز گنڈا پور

عوامی تحریک کا وزیر اعظم کے نام خط،اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری پنجاب لگانے کی خبروں پر اظہار تشویش

16جون 2014ء کو ماڈل ٹاؤن آپریشن کا فیصلہ کرنیوالی میٹنگ میں میجر (ر) اعظم سلیمان نے بطور ہوم سیکرٹری پنجاب شرکت کی

سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث کسی افسر کو اہم عہدہ ملنے سے ٹرائل متاثر ہوگا،طلب کئے گئے افسران عہدوں سے ہٹائے جائیں

خط سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے لکھا،خط کی کاپی وزیر اعلیٰ پنجاب، اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھی بھجوائی گی ہے

 

 

پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے وزیر اعظم پاکستان کے نام خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’آپ کی توجہ ایک انتہائی اہم معاملہ کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں،بعض میڈیا رپورٹس کے ذریعے علم ہوا کہ میجر(ر) اعظم سلیمان چیف سیکرٹری پنجاب لگائے جانے والے امیدواروں کی فہرست میں ایک فیورٹ امیدوار ہیں، اس حوالے سے گزارش یہ ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے موقع پر میجر(ر)اعظم سلیمان ہوم سیکرٹری پنجاب تھے،شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء نے جن ملزمان کی طلبی کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے ان 12ملزمان کی فہرست میں نواز شریف، شہباز شریف کے علاوہ میجر(ر) اعظم سلیمان کا نام بھی شامل ہے،میجر(ر) اعظم سلیمان جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ جاری نہ کرنے کے غیر قانونی عمل کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔بطور ہوم سیکرٹری پنجاب میجر(ر) اعظم سلیمان سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے دست راست رہے ،سانحہ ماڈل ٹاؤن کے غیر قانونی آپریشن کے حوالے سے 16 جون 2014 ء کے دن اس وقت کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ لاہور میں ایک اجلاس منعقد ہوا، اس اجلاس میں میجر(ر)اعظم سلیمان نے وزیراعلیٰ پنجاب کی نمائندگی کی کیونکہ وزارت داخلہ کا قلمدان وزیر اعلیٰ پنجاب کے پاس تھا اور ہوم سیکرٹری پنجاب نے اس میٹنگ میں اپنے وزیر داخلہ کی نمائندگی کی، اسی میٹنگ میں ادارہ منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے گھر پر حملہ کرنے اور قتل عام کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، ہمارے اس موقف کی تصدیق جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ میں بھی کی گئی ہے، اسی میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا کہ آپریشن کے دوران جو بھی شخص رکاوٹ بنے اسے ختم کر دیا جائے، اس ضمن میں درخواست ہے کہ میجر(ر)اعظم سلیمان کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں بے گناہی ثابت کرنے تک کوئی سرکاری ذمہ داری نہ دی جائے بلکہ فیئر تفتیش اور فیئر ٹرائل کا یہ تقاضا ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک تمام ملزمان کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا جائے کیونکہ وہ اپنی سرکاری حیثیت کی وجہ سے کسی نہ کسی شکل میں کیس پر اثر انداز ہورہے ہیں اور اگر خدانخواستہ میجر(ر) اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری پنجاب کا اہم عہدہ دیا گیا تو پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان اور سانحہ کے درپردہ جملہ کرداروں کو کسی نہ کسی شکل میں تحفظ ملے گا اور ٹرائل متاثر ہو گا۔سانحہ ماڈل ٹاؤن انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا بدترین واقعہ ہے جس میں 100 لوگوں کو دن دہاڑے ریاستی ادارے پولیس نے سابق حکمرانوں کے حکم پر گولیاں ماریں ،14 شہری شہید ہو گئے اور 4سال گزر جانے کے بعد بھی اس کا انصاف نہیں ہوا، انصاف تو دور کی بات تاحال اس سانحہ کی غیر جانبدار انکوائری بھی نہیں ہوئی، وزیراعلیٰ پنجاب محترم عثمان بزدار صاحب نے حلف اٹھانے کے بعد اس عزم کا اظہار کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی غیر جانبدار تفتیش ہو گی اور مظلوموں کو انصاف ملے گا، ہم ان کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے اول روز سے لے کر اب تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں کو انصاف دلوانے کی بات کی اور حصول انصاف کیلئے شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے جتنی بھی اے پی سیز میں منعقد کی گئیں ان میں شرکت کی اور قاتلوں کو کڑی سزا دینے کے حوالے سے منظور کی جانے والی قراردادوں کی پرزور حمایت کی ،اب وقت آگیا ہے کہ مظلوموں کو انصاف دلوایا جائے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے جملہ کرداروں کو بے نقاب کیا جائے اور اس ضمن میں جس جس سرکاری عہدیدار نے اس قتل عام میں حصہ لیا اسے سانحہ کے کیسز کے حتمی فیصلے تک عہدوں سے الگ کیا جائے بالخصوص میجر(ر) اعظم سلیمان جیسے افسران کو پنجاب میں کسی قسم کی کوئی ذمہ داری نہ سونپی جائے۔‘‘خرم نوازگنڈا پور نے کہا ہے کہ تحریک انصاف بطور جماعت شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثا کو انصاف دلوانے کی جدوجہد میں ساتھ رہی،اب وقت آگیا ہے انسانی حقوق کے قتل عام کے اس بدترین واقعہ کے تمام کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور چار سال سے انصاف کے منتظر مظلوموں کو انصاف فراہم کیا جائے۔