ki

ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی طرف سے میڈیا پرسنز کے اعزاز میں ظہرانہ

سربراہ پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے طارق روڈ میں PATمیڈیا سیل کراچی کے زیر اہتمام ہونے والے میڈیا پرسنز کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی سے منظور ہونے والا اقلیتی بل کی کو حیثیت نہیں ہے ایسا بل ایسے موقع پر آنا خود ایک سوالیہ نشان ہے ۔حکومت اس بل کو فوری طور پر اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجے۔پاکستانی قوم میں اب تک تبدیلی کا شعور نہیں آیا ۔ہ ہمارے کارکنان نے جانیں دے کر گولیاں کھا کر دیکھ لیا قوم نے ساتھ نہیں دیا قربانیاں صرف پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے دیں ۔پاکستان میں کوئی بھی انقلابی تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک پوری قوم نہیں نکلتی۔پارلیمنٹ جمہوری ادارہ نہیں ہے ۔ہم بحیثیت قوم بے حسی کا شکار ہیں ایسی کیفیت میں اللہ کا عذاب آتا ہے ۔پاکستان میں تبدیلی میں رکاوٹ خود قوم ہے جو باہر نہیں نکلتی۔نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے فوج نے اپنا کام 10فیصد کر لیا ہے اور سول حکومت 90فیصد اپنا ہدف پورا نہیں کر سکی ۔ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں صرف عمارت کے باہر پارلیمنٹ لکھنے سے جمہوریت نہیں آتی ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا طویل عرصے بعد کراچی آنا ہوا ہے جس پر میں اہل کراچی سے معذرت خواہ ہوں۔کراچی کے امن کیلئے دعا گو ہوں ۔انھوں نے کہا پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں کر سکے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ملک میں اسوقت گلوبٹوں کی حکومت ہے گلوبٹ کرپشن میں ملوث ہیں اقتدار اور کاروبار پر گلوبٹ حکومت قابض ہے ملکی ادارے بھی ان ظالم ،کرپٹ حکمرانوں کے آگئے بے بس ہیں اس ملک میں کرپشن ہی سب سے طاقت ور ادارہ ہے موجودی حکمران کرپشن کے بانی ہیں پانامہ لیکس تو کرپشن میں دیگ کا ایک  چاول ہے باقی پوری دیگ ابھی باقی ہے ۔داکٹر قادری نے کہا پارلیمنٹ کرپشن کے سامنے بے بس اور شکست خوردہ ہو چکی ہے پارلیمنٹ کے اراکین پینا ڈول کے پیسے بھی وصول کرتے ہیں ایسے حالات میں ملک کیسے ترقی کر ے گا ۔پولیس ،ایف آئی اے،ایف بی آر ،اسٹیٹ بنک اور دیگر تمام ادارے کرپشن کے مدد گار ہیں ۔ادارے ریاستی ہونے کا کردار چھوڑ کر حکمرانوں کی غلامی کر رہے ہیں انھو ں نے کہا ہم نے آج تک جو بھی کہا وہ غلط ثابت نہیں ہوا ۔انھوں نے کہا کراچی آنے کا مقصدکچھ اور نہیں تھا بلکہ کراچی کے حالات کا جائزہ لینا تھا ۔ڈاکٹر قادری نے کہا قوم کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے جو کہ وہ اپنی ذمہ داری میں ناکام ہو چکی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا پیمرا کوئی ادارہ نہیں بلکہ صحافیوں پر دہشت گردی کا ادارہ قائم کیا گیا ہے تاکہ آزاد صحافت کا گلہ دبایا جا سکے ۔اس موقع پر پاکستان عوامی تحریک کراچی کے سیکرٹری اطلاعات الیا س مغل نے آنے والے معزز صحافیوں کو استقبالیہ دیا ۔اس موقع پر ڈاکٹر حسن محی الدین القادری،خرم نواز گنڈا پور،نور اللہ صدیقی،قاضی زاہد حسین،صفدر قریشی،لیاقت کاظمی،قیصر اقبال قادری،شہزاد میرٹھی￿،رائو کامران محمود،عدنان روف انقلابی،سید ظفر اقبال،اطہر جاوید صدیقی،مشتاق صدیقی،عبد الواحد قاسمانی،نعیم انصاری،رائو طیب،رانی ارشد،صدف رفیع،چمن فاطمہ بھی موجود تھیں۔ظہرانے میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے اینکرز،ایڈیٹرز،پروڈیوسرز،نیوز ایڈیٹرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔