1

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کو شریف برادران کے ایماء پر تاخیر کا نشانہ بنایا گیا :عوامی تحریک

مفرورڈی آئی جی رانا عبدالجبار 17 جون کو ماڈل ٹاؤن میں سلطان راہی بنے ہوئے تھے
چیف جسٹس کے نوٹس پر شہداء کے ورثاء مشکور ہیں :خرم نواز گنڈاپور/ فیاض وڑائچ
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا 90فیصد پولیس افسر جرائم میں ملوث ہیں، سید الطاف شاہ گیلانی

 

 

پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور، جنوبی پنجاب کے صدر فیاض وڑائچ اور سید الطاف حسین گیلانی نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کو شریف برادران کے ایماء پر تاخیر کا نشانہ بنایا گیا ،مفرورڈی آئی جی رانا عبدالجبار 17 جون کو ماڈل ٹاؤن میں سلطان راہی بنے ہوئے تھے اور اب چوہے کی طرح کسی بل میں چھپے ہوئے ہیں، بل سے باہر نکلیں اور انسداد دہشتگردی عدالت میں ٹرائل کا حصہ بنیں۔رہنماؤں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے سٹیٹ کیس میں انسداد دہشتگردی عدالت لاہور میں ڈی آئی جی رینک کے حاضر سروس پولیس افسر کے بطور گواہ پیش نہ ہونے پر وارنٹ گرفتاری کا جاری ہونا پنجاب پولیس کی لاقانونیت اور ڈسپلن کے بحران کی انتہا ہے، جو اعلیٰ پولیس افسر خود قانون کا احترام نہ کریں ان سے یہ توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کی آئینی و قانونی ذمہ داریوں کو پورا کر سکیں گے۔ایک عرصہ سے رانا عبدالجبار مفرور ہیں ،افسوس کسی اعلیٰ افسر نے بشمول آئی جی اس مفروری کا نوٹس نہیں لیا، ایسے شخص کو محکمے کے اندر نہیں جیل کے اندر ہونا چاہیے۔تحریک کے رہنماؤں نے گزشتہ روز مرکزی سیکرٹریٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے سپیڈی جسٹس کے قانونی تقاضے پورے ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں، چیف جسٹس سپریم کورٹ کے حکم پر لاہور ہائیکورٹ میں فل بنچ تشکیل پا چکا ہے، امید ہے آج 19 اپریل سے زیر التواء درخواستوں پر سماعت کا آغاز ہو جائے گا اور ان کے جلد سے جلد فیصلے ہونگے تاکہ اے ٹی سی میں جاری ٹرائل بلا تعطل آگے بڑھ سکے۔ فیاض وڑائچ نے کہا کہ شریف برادران جو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ ساز ہیں نے کیس کو التواء کا شکار بنانے کیلئے ریاستی طاقت اور اختیار کا ناجائز استعمال کیا ، ہر مرحلہ پر انصاف کے راستے میں پتھر کھڑے کیے مگر ایک طاقت اور بھی ہے جو مظلوموں کی دعائیں اور التجائیں سنتی ہے اور ظالموں کو نکیل ڈالتی ہے۔ وہ ذات اللہ کی ہے۔ فیاض وڑائچ نے کہا کہ آئی جی پنجاب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی فورس کے اہم افسر کو گرفتار کر کے اے ٹی سی میں پیش کریں تاکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کے قانونی تقاضے پورے ہو سکیں، انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث تمام پولیس افسران کو کیس کے فیصلے تک عہدوں سے الگ کر دیا جائے۔ منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے سکیورٹی ہیڈ سینئر رہنما سید الطاف حسین گیلانی نے کہا کہ پنجاب پولیس کی لاقانونیت اور بربریت کا خوفناک منظر 17 جون 2014 ء کے دن اپنی آنکھوں سے دیکھا جس ملک کی پولیس عوام کو تحفظ دینے کی بجائے عوام کی جانیں لینے والی ہو اس ملک کی سلامتی کیلئے صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی طرف سے پولیس افسروں کے حوالے سے جن ریمارکس کا ذکر ہوا ہے وہ لمحہ فکریہ ہے ، معزز جج نے کہا پولیس افسروں کے کمروں سے دن میں منشیات رات کو لڑکیاں ملتی ہیں اور یہ کہ 90فیصد پولیس افسر جرائم میں ملوث ہیں۔ ان ریمارکس کے بعد ہر شریف آدمی دہل کر رہ گیا ہے کہ کیا ہم اپنے تحفظ کیلئے جرائم پیشہ اور بداخلاق عناصر کو خون پسینے کے ٹیکسوں کی تنخواہیں دے رہے ہیں؟انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پولیس کی بربریت اور بدقماشی کا انتہائی مکروہ اقدام ہے۔