2

پاکستان میں 80 ہزار افراد دہشتگردی کا شکار ہوئے:ڈاکٹر حسین محی الدین

قومی و ملی المیہ سے نمٹنے کیلئے حکومتی سطح پر کوئی توجہ نہیں دی گئی:پیس اینڈ کاؤنٹرٹیررازم کانفرنس سے خطاب
کانفرنس سے ڈاکٹر ہرمن روبوگ اور ڈاکٹر آلقما خواجہ نے خطاب کیا، طلباء میں سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے گئے

 

 

 

تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر و منہاج یونیورسٹی لاہور کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹرحسین محی الدین قادری نے کہاہے کہ پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمے ،امن کے فروغ اور معاشرے میں رواداری کوقائم کرنے کیلئے منہاج یونیورسٹی نے عالمی سطح کے ڈگری پروگرامز جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ تحقیق کے ذریعے اصل مسائل سے نمٹا جاسکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ ’’ریلیجنز ،فلاسفی ،پیس اینڈکاؤنٹرٹیرازم‘‘ کے اشتراک سے 12ہفتوں پر مشتمل “Religious Pluralism and Peace Studies”کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ کے اختتام پر طلباء کو سرٹیفکیٹ دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سکول آف ریلیجنز اینڈ فلاسفی کے چیئرمین ڈاکٹرہرمن روبوگ،سکول آف پیس اینڈ کاؤنٹرٹیررازم کے چیئرمین ڈاکٹر آلقما خواجہ نے بھی خطاب کیا ۔ڈاکٹرحسین محی الدین کاکہناتھاکہ پاکستان میں70سے 80ہزار افراد دہشتگردی کا شکار ہوئے لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں نے اس سے نمٹنے کیلئے کوئی توجہ نہ دی اگر دوسرے ممالک کی طرف دیکھیں جہاں کہیں بھی دہشتگردی کا کوئی معمولی واقعہ بھی ہوا تھاتواس ملک نے دہشتگردی سے نمٹنے کی تحقیق کیلئے اپنی یونیورسٹیوں میں کاؤنٹرٹیرازم ڈیپارٹمنٹ تشکیل دئیے لیکن یہاں سرکاری اورپرائیویٹ سطح پراس حوالے سے کوئی توجہ نہ دی گئی یہ کریڈیٹ الحمداللہ منہاج یونیورسٹی کو جاتاہے کہ اس نے دہشتگردی کے خاتمے اورامن کے قیام کیلئے نئی تحقیق کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے ڈگری کی سطح پر کاؤنٹرٹیرازم ڈیپارٹمنٹ کاقیام عمل میں لایا اسی طرح ہم نے ریلیجنز اینڈ فلاسفی کا ڈگری پروگرام بھی شروع کیا تاکہ مسلمانوں کی اکثریت رکھنے والے ملک پاکستان میں دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے مذہب کی تعلیمات پر ڈگری حاصل کرسکیں ۔انہوں نے کہاکہ چرچ ، مندر اورگوردوارے اپنے مذہب کے متعلق تعلیمات دیتے ہونگے لیکن وہ ڈگری جاری نہیں کرسکتے جس طرح دنیا بھر میں اسلامک اسٹڈی کے ڈیپارٹمنٹ پی ایچ ڈی سکالرز کی ڈگری جاری کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہاں طلباء دوسرے مذاہب کے متعلق آگاہی کیلئے متعلقہ مذہب کے پروفیسرز اورانکی اصل مذہبی کتابوں سے ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں تاکہ طلباء کسی تعصب کے بغیرمذاہب کی تعلیمات پر ریسرچ کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ حقیقت میں یہ کام حکومتوں کوکرنے چاہیے کہ وہ اپنے شہری کو بلاتفریق ریسرچ کی سہولیات فراہم کریں ،اس قسم کے پروگرام شروع کرنے سے گریز کیا جاتا ہے کیونکہ یہ پروگرام منافع بخش نہیں ہوتے۔ انہوں نے بتایا کہ منہاج یونیورسٹی کے ریلیجنز اینڈ فلاسفی اور پیس اینڈ کاؤنٹرٹیرازم کے شعبوں میں جلد پی ایچ ڈی سطح کے پروگرام بھی شروع ہونگے ۔