5

اشرافیہ کی جمہوریت میں عزت ذلت،نیکی بدی کی تمیز ختم ہوگئی ۔خرم نواز گنڈا پور

پاکستان عوامی تحریک کے  سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا ہے کہ نواز شریف ٹولے کی عدلیہ اور قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں گستاخیاں حد سے بڑھ گئیں عدلیہ اور ججز کے آئینی وقار کے تحفظ کے لیے وکلاء برادری نواز شریف اور ان کے خوشامدیوں کو شٹ اپ کال دے،عدلیہ غریب،مظلوم اور کمزور کی آخری امید ہے،انہوں نے مرکزی سیکرٹریٹ میں عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دانیال،طلال جھومتے اور قہقہے لگاتے ہوئے اس طرح کمرۂ عدالت میں داخل ہوتے ہیں جیسے انہوں نے توہین عدالت کا جرم نہیں کوئی نیکی کا کام کیا ہو،کسی قانون ساز ادارے کے رکن کو توہین عدالت پر طلب کرے تو یہ اس پارلیمنٹیرین کے لیے مر ڈوبنے کا مقام ہونا چاہیے نہ کہ قہقہے لگانے کا،انہوں نے کہا کہ دکھ ہے اشرافیہ کی جمہوریت میں عزت،ذلت،نیکی بدی کی تمیز ختم ہوگئی،وزراء چند دن کی وزارت اور اراکین اسمبلی پارٹی ٹکٹ کے لیے جھوٹے پارٹی صدر کی خوشنودی کے لیے اس حد تک گر چکے کہ انہیں عدلیہ اور فوج جیسے اداروں کی حرمت کا بھی پاس نہیں رہا،خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017کیس کی سماعت کے دوران سردار لطیف خان کھوسہ نے درست کہا کہ توہین عدالت کے مجرموں کے حوالے سے اتنی رحمدلی نہ دکھائی جائے کہ ریاست کو سزا بھگتنا پڑے،انہوں نے کہا کہ شریف برادران غیر مہذب،منتقم مزاج اور سفاک درندے ہیں ان درندوں نے 17جون 2014کے دن ماڈل ٹاؤن لاہور میں 100شہریوں کو گولیوں سے چھلنی کروایا، 14کو قتل کیا اور اگر جسٹس باقر نجفی کمیشن نے غیر جانبدارانہ انکوائری میں انہیں سانحہ کا ذمہ دار ٹھہرایا تو اشرافیہ نے جسٹس باقر نجفی کے عقیدے پر انگلی اٹھائی اور توہین آمیز لب ولہجہ اختیار کیا،اگر ان کی ججز کے حوالے سے روایتی ہرزہ سرائی کا نوٹس لے لیا جاتا تو آج نوبت کھلی گالیوں تک نہ آتی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے محب وطن قانون پسند شہری عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ جھوٹے اور لٹیروں کو عبرتناک سزائیں دے کر ایک مثال قائم کریں تاکہ آئندہ کوئی توہین آئین، توہین قانون، توہین عدالت اور توہین انسانیت کی جرأت نہ کرسکے۔